نجیب ساویرس اسرائیل ایران جنگ کے معیشت پر اثرات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں ؟

ایک ہفتے کے اندر جنگ ختم ہو جانے کی توقع ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصر کی معروف کاروباری شخصیت اور ORASCOM انویسٹمنٹ ہولڈنگ کمپنی کے سربراہ، نجیب ساویریس کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری جنگ نے اب تک مالیاتی منڈیوں پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالا، لیکن اس نے غیر یقینی صورت حال ضرور پیدا کر دی ہے جس کے باعث بعض ممالک میں سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر ہو گئے ہیں۔

انہوں نے "العربیہ بزنس" سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ سونے اور تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔

ساویرس کے مطابق "ایک عمومی رائے یہ ہے کہ یہ جنگ چند دنوں یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں ختم ہو جائے گی، کیوں کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا کوئی واضح انجام نہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اسرائیل ایرانی جوہری قوتوں کو مکمل طور پر تباہ کر پائے گا، اور نہ ہی ایران اسرائیل پر فتح حاصل کر سکے گا"۔

ساویرس نے مزید واضح کیا کہ ان کی کمپنی عراق میں جو ریئل اسٹیٹ منصوبہ مکمل کر رہی ہے، وہ اچھے انداز میں جاری ہے کیوں کہ عراق اس موجودہ جنگ سے متاثر نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں سرمایہ کاری کا ماحول امید افزا ہے۔

مصر میں گیس کا بحران

اوراسکوم انویسٹمنٹ ہولڈنگ کے سربراہ نجیب ساویرس نے کہا کہ مصر کی جانب سے صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی روکنا مسئلے کا حل نہیں، کیوں کہ کھاد کے کارخانوں کی بندش سے زرعی پیداوار اور برآمدات متاثر ہوں گی۔ انھوں نے اسرائیلی گیس پر انحصار ختم کرنے کا مشورہ دیا، جسے انھوں نے "سیاسی گیس" قرار دیا جو کسی بھی بحران میں بند ہو سکتی ہے۔

ڈالر بمقابلہ مصری پاؤنڈ

ساویرس کے مطابق اس وقت ڈالر کے مقابلے میں مصری پاؤنڈ کی قدر مستحکم ہے، جس کی وجہ سیاحت، برآمدات اور نجی شعبے کی ترقی ہے۔ تاہم، سال کے آخر تک قرضوں کی ادائیگی ایک بڑا چیلنج ہے، اور اس کے لیے ایک واضح منصوبہ ضروری ہے۔

مصری عوامی شعبہ

انھوں نے کہا کہ اگرچہ نجی شعبہ معیشت کا 80 فی صد ہے، مگر عوامی شعبے کی خراب حکومتی نگرانی نقصان، کرپشن اور رشوت کا سبب بن رہی ہے۔ ساویرس کے مطابق بعض کمپنیاں اربوں کا نقصان کر رہی ہیں، مگر انتظامیہ کو انعامات ملتے ہیں، اور کرپشن کے کیسز وقفے وقفے سے سامنے آتے رہتے ہیں۔

سونے میں سرمایہ کاری کا مستقبل

ساویرس کے مطابق سونے کی کانوں سے نکالنے کی لاگت 1200 سے 1500 ڈالر فی اونس ہے، اس لیے قیمتیں گرنے پر بھی منافع ممکن ہے۔ چین اور روس اس وقت بڑے خریدار ہیں تاکہ ڈالر کے غلبے سے بچ سکیں۔ انھوں نے سوئس فرینک کو مضبوط ترین کرنسی قرار دیا اور کہا کہ سونا، جائیداد اور نقد رقم (25%–30%) سرمایہ کاری کے لیے اچھے تحفظ کے ذرائع ہیں۔ لبنان میں سرمایہ کاری کو انھوں نے "حزب اللہ" کے اسلحے کی ریاستی تحویل سے مشروط قرار دیا، اور شام میں واپسی کو آزادیوں اور انتہا پسندی کے قابو میں آنے سے جوڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں