سعودی عرب میں ثقافتی ورثے کی حفاظت اور دستاویزی کاموں کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ورثہ اتھارٹی نے ملک بھر سے 744 نئے آثارِ قدیمہ کے مقامات کو قومی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
اس تازہ رجسٹریشن کے بعد مملکت میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ آثارِ قدیمہ کی تعداد بڑھ کر 10 ہزار 61 ہو گئی ہے، جو سعودی عرب کے متنوع اور گہرے ثقافتی ورثے کا مظہر ہے۔
ہیئتِ ورثہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان تازہ شامل کردہ مقامات میں سب سے زیادہ 253 مقامات ریاض ریجن میں رجسٹر کیے گئے، مدینہ منورہ میں 167،نجران میں 86،تبوک میں 72،عسیر میں 64،القصیم میں 30،جازان میں 23، مکہ مکرمہ میں 11،الشرقیہ اور حائل میں 13-13،الجوف میں 10، جب کہ شمالی سرحدہ ریجن میں 2 مقامات شامل ہیں۔
یہ قدم 1436ھ، 9 محرم کے شاہی فرمان کے تحت جاری کردہ ورثہ اور آثارِ قدیمہ کے ضوابط اور "ہیئتِ ورثہ کے بورڈ" کی طرف سے دی گئی اختیارات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت ادارے کے چیف ایگزیکٹو کو آثارِ قدیمہ اور ثقافتی مقامات کے اندراج کا اختیار حاصل ہے۔
رجسٹریشن کا مقصد ان تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات کو مؤثر تحفظ فراہم کرنا اور ان کی اہمیت کے مطابق مستند انداز میں دستاویز کرنا ہے۔
ہیئتِ ورثہ نے شہریوں اور مقیم افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے آثارِ قدیمہ کے مقامات جو تاحال رجسٹر نہیں کیے گئے، ان کی نشاندہی کریں۔ اس کے لیے "بلاغ" پلیٹ فارم، سوشل میڈیا پر ادارے کے سرکاری اکاؤنٹس، یا ہنگامی مرکز911 سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ادارے نے زور دیا ہے کہ سماجی شراکت قومی ورثے کے تحفظ اور اس کے فروغ میں ایک کلیدی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔
-
سعودی عرب کی کاروباری دنیا میں زبردست پیش رفت، عالمی درجہ بندی میں 60 درجے کا اضافہ
سعودی عرب نے کاروباری قیادت کے میدان میں ایک اور شاندار کامیابی حاصل کی ہے، جہاں ...
بين الاقوامى -
بم کی اطلاع ... سعودی ایئرلائنز کے طیارے نے انڈونیشیا کی فضاؤں میں راستہ تبدیل کر دیا
طیارے میں 442 مسافر سوار ہیں
مشرق وسطی -
سعودی خاتون کی اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے سفر کے دوران حادثے میں موت
سعودی عرب میں خمیس مشیط گورنری میں سعودی شہری محمد البجادی نے انسانیت کے ایک نادر ...
بين الاقوامى