یوکرین کو اسرائیل ایران جنگ کے باعث اتحادیوں سے نظر انداز ہونے کا خوف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران اور اسرائیل کے درمیان سات روز پہلے شروع ہونے والی جنگ نے بین الاقوامی برادری اور بڑی طاقتوں کی توجہ پوری طرح اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ اس ماحول میں یوکرینی حکام کہتے ہیں کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کا ملک نظر انداز کر دیا جائے گا۔

اسرائیل نے روس کے قریبی اتحادی ایران کے خلاف بھاری بمباری سے جنگ کا آغاز کیا تھا۔جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے زبردست حملے کیے ہیں۔ ان ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو جزوی طور پر کئی بار مفلوج بھی کیا ہے۔

اس نئے جنگی آغاز کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ یوکرینی حکام کو پریشانی ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے روس کو مالی فوائد ملیں گے جنہیں وہ یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کرے گا۔ ان حکام کا کہنا تھا کہ یہ تیل جب تک مہنگا ہوتا رہے گا روس کو فائدہ پہنچتا رہے گا۔

تاہم یوکرین نے ایران پر اسرائیلی حملے کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ کیونکہ ایران نے یوکرین کے خلاف روس کو غیر معمولی مدد دی تھی۔

اسرائیل کے ایران پر حملوں میں ایرانی فوج کے کئی اہم اور اعلی ترین حکام ہلاک ہو گئے ہیں۔ جبکہ ایران کے طول وعرض میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ یوکرین کے لیے یہ اطمینان کی بات ہے کہ ایران کی فوجی مشکلات بڑھنے سے روس کے لیے ایرانی مدد میں کمی ہوگی۔

یوکرینی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی روس کے اتحادی ہیں ان کا جتنا بھی نقصان ہوگا یوکرین کے لیے بہتر ہوگا۔ ان ذرائع کے مطابق اسرائیل جو ایران کے ساتھ کر رہا ہے یہ دنیا کے فائدے میں ہے۔ تاہم ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے امریکہ کی توجہ بھی یوکرین پر کم ہونا اپنی جگہ باعث تشویش ہے۔

اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ان کے سلامتی کے سلسلے میں ترجیح مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک ہیں، ان کی ترجیحات میں میں یورپ کم اہم ہوگیا ہے۔

ٹرمپ کا ایران کے بارے میں 'جنون'

ٹرمپ کی اس ترجیحی کمی کے باعث ہو سکتا ہے یوکرین میں روس کی پیش قدمی جاری رہے اور یوکرینی عوام روس کے مہلک ہتھیاروں کی زد میں رہیں مگر ٹرمپ کا ریسپانس کمتر یا خاموشی پر مبنی ہی رہے۔

اس سے پہلے ہی ٹرمپ کے ساتھ یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ تعلقات میں ناخوشگواری آچکی ہے۔ جبکہ یوکرین کی امریکہ میں لابنگ بھی کوئی خاص مؤثر نہیں رہی ہے۔

زیلنسکی نے بھی اس پیچیدہ صورت حال کا بطور خاص اسرائیل ایران جنگ میں رپورٹرز کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ اسرائیل پر حملے ٹرمپ کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ یوں اسرائیل پر ایرانی بمباری یوکرین کے لیے بھی سخت خطرناک ہو گی۔

ان کا کہنا تھا اس سے پہلے حماس کے اسرائیل پر حملے نے بھی یوکرین کے لیے اتحادیوں کی توجہ کو کافی متاثر کر دیا تھا۔ اب پھر اس سے بھی سنگین معاملہ آگیا ہے۔

رواں ماہ کے شروع میں زیلنسکی نے امریکی میڈیا میں ایک انٹرویو میں اسرائیل کا نام لیے بغیر کہا تھا واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں روسی ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے یوکرین کو بیس ہزار میزائل بھی بھجوا سکتا ہے۔

غزہ جنگ کے شروع ہونے کے بعد زیلنسکی کے قریبی ساتھیوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ یوکرین کو اسلحے کی اپنی صنعت پر اب توجہ دینی چاہیے کیونکہ حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب اسرائیل ایران جنگ سے تو حالات غیر معمولی طور پر بدل چکے ہیں۔ اس لیے یوکرین میں تشویش اور فکر مندی کا پہلو غالب آنے لگا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں