اسرائیل نے ایران پر امریکی حملوں کے بعد اپنے حملے ایران پرروکنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس نے پیر کے روز سے ایران پر ایک بار پھر بمباری شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سلسلے میں جاری کیے گئے اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بمباری اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ ایران فوردو تک رسائی نہ کر سکے۔
خیال رہے اسرائیلی فوج کی کوشش ہے کہ وہ ان جوہری مراکز تک ایران کو کسی صورت پہنچنے کا موقع نہ دے جنہیں ابھی تک اسرائیل اور اس کے بعد امریکہ بھی پوری طرح تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
اگرچہ امریکی صدر نے 21 جون کو ایران پر خوفناک امریکی بمباری کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ امریکی حملے کامیاب رہے ہیں اور ایرانی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔
لیکن ایران کی طرف سے اس انکشاف نے امریکہ و اسرائیل کو ایک بار پھر حیران کر دیا ہے کہ ایران جوہری مراکز سے قیمتی جوہری اثاثے بشمول 400 کلو گرام یورینئیم کو پہلے ہی محفوظ جگہ پر منتقل کر چکا تھا۔
اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کام کرنے والے جوہری امور کے واچ ڈاگ ' آئی اے ای اے' کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے سلامتی و امن کے لیے کشیدگی اور جنگ کی موجودہ فضا کو ختم کرنا چاہیے۔ تاکہ بین الاقوامی ادارے کی ماہرین کی ٹیمیں ایرانی جوہری تنصیبات کا بمباری کے بعدجا کر جائزہ لے سکیں۔
ویانا میں واچ ڈاگ ادارے کی بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے اور ان کی ٹیموں سمیت کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ اسرائیلی و امریکی بمباری کی زد میں آنے والی ایرانی جوہری تنصیبات کا جا کر جائزہ لے سکیں اور درست حقائق سامنے لے کر آسکیں۔
اتوار کی شام اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی رپورٹرز سے اس بارے میں ادھوری بات کہی۔ ان کا ایک طرف یہ کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے بہت دلچسپ معلومات ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل سامنے لانے سے انکار کر دیا۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا ہم ان چیزوں کا پیچھا کر رہے ہیں اور بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے اگر میں فی الوقت آپ کے ساتھ یہ معلومات شیئر نہ کروں تو آپ مجھے معاف رکھیں۔
بین القوامی توانائی ادارے کے مطابق ایران نے 2021 تک 60 فیصد یورینیئم افزودہ کر لی تھی۔ جبکہ ہتھیاروں میں یورینیئم کے استعمال کے لیے 90 فیصد کی ضرورت ہوتی ہے۔
دوسری جانب ایران جس کا جوہری پروگرام دنیا بھر میں موضوع بحث ہے اور اسرائیل نے اسی وجہ سے ایران کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے خود اسرائیل اپنے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں عالمی برادری یا بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کوئی بات شیئر کرنے کو تیار نہیں ہے۔
'سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ' کے مطابق اسرائیل کے پاس 90 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم اسرائیل اس بارے میں تصدیق کرتا ہے نہ تردید۔
-
اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، فردو تنصیب دوبارہ نشانہ
اسرائیل ایران تنازع گیارہویں روز میں داخل ہو گیا۔ پیر کے روز ایرانی میزائلوں نے ...
مشرق وسطی -
ایرانی پارلیمنٹ کا ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے پرغور
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے باور کرایا ہے کہ تہران جوہری ہتھیاروں کے لیے کوشاں ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی بم باری کے بعد ایرانی ٹیلی وژن کی نشریات منقطع ہونے کی تصاویر
پیر کے روز میڈیا نے ایسی تصاویر نشر کیں جن میں اسرائیلی بم باری کے بعد ایرانی ...
بين الاقوامى