ایسے وقت میں جب نئی انٹیلی جنس رپورٹوں میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی حملے ایرانی جوہری مقامات کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے معاونین ان معلومات کی صحت سے انکار کر رہے ہیں ... ایران نے اپنی جوہری تنصیبات پر ہونے والے واقعات کے بارے میں حتمی موقف اختیار کر لیا ہے۔
"شدید نقصان"
امریکی خبر رساں ایجنسی (اے پی) کے نمائندے کی جانب سے بدھ کے روز شائع ایک نئی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس رپورٹ میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی حملوں کے باعث جوہری تنصیبات "شدید نقصان" کا شکار ہوئی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب ٹرمپ نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روتے سے لاہائے میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ایران پر امریکی حملے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات قطعی نہیں ہیں، تاہم یہ بھی کہا کہ امریکی حملے نے ایرانی جوہری مقامات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
آج بدھ کو انھوں نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ حملے نے ایران کے جوہری مقامات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، اور بعض ذرائع ابلاغ ان امریکی حملوں کی اہمیت کو کم کر کے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے اعلان کیا کہ ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتیں کئی دہائیوں پیچھے چلی گئی ہیں، اور اس کے پاس موجود بڑی مقدار میں گولہ بارود تباہ ہو چکا ہے۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ فردو کی جوہری تنصیب مکمل طور پر تباہ کر دی گئی، اور اس کی تصدیق اس طرح کی کہ "اسرائیلی ایجنٹ حملے کے بعد فردو میں موجود تھے اور انھوں نے مکمل تباہی کی تصدیق کی۔"
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز "پولیٹیکو" اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حملوں کے مؤثر ہونے پر دوبارہ زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے مختلف بنیادی اجزاء کو سنگین اور بنیادی نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران اب جوہری ہتھیار کے حصول سے پہلے کے وقت کی نسبت کہیں زیادہ پیچھے چلا گیا ہے، اور یہ فرق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس جرات مندانہ فیصلے کے بعد پیدا ہوا جس کے تحت تین جوہری مقامات ... فردو، نطنز اور اصفہان کو تباہ کیا گیا۔
مزید یہ کہ روبیو نے وضاحت کی کہ امریکی حکومت اب بھی ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا رہی ہے۔
گزشتہ روز امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے، جو محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے تحت کام کرنے والی ایک انٹیلی جنس ایجنسی "ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) " نے تیار کی تھی، روبیو نے کہا کہ یہ رپورٹس جھوٹی ہیں اور زمینی حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اکثر وہ ادارے جو اس طرح کی خبریں پھیلاتے ہیں، ان کے پسِ پردہ کوئی سیاسی ایجنڈا ہوتا ہے۔
پینٹاگون کی انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹ
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی محکمہ دفاع کی انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) نے ایک ابتدائی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ امریکی حملوں نے فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر تباہ نہیں کیا، بلکہ ایرانی جوہری پروگرام کو صرف چند ماہ تک مؤخر کیا ہے۔
اس کے برخلاف، وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اس بات کی تردید کی اور کہا کہ "یہ نام نہاد تجزیہ بالکل غلط ہے۔" ساتھ ہی انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ یہ رپورٹ اگر خفیہ تھی تو میڈیا تک کیسے پہنچی؟
دوسری جانب، ایران نے بھی بارہا ان حملوں کی شدت کو کم ظاہر کیا ہے۔ ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ محمد سلامی نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک جوہری شعبے کو بحال کرنے اور اس کی مرمت کے لیے پہلے سے تیاریاں کر چکا تھا۔
جب کہ ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے گزشتہ اتوار کو اس بات کی تصدیق کی کہ 60 فی صد تک افزودہ کیا گیا وہ یورینیم جو ایٹمی ہتھیار بنانے کی سطح کے قریب تھا، امریکی حملے سے پہلے کسی اور جگہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
-
اسرائیل نے ایران کے مرکزی بینک کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا: وزیر
جنگ بندی کے ایک دن بعد اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے بدھ کے روز ایران کے مرکزی بینک کو ...
مشرق وسطی -
ایرانی تنصیبات کو مٹا ڈالا ... غزہ معاہدہ بہت قریب ہے : ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ ...
بين الاقوامى -
اشاعتِ خصوصی: اسرائیل اورامریکہ کے حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو 'بہت پیچھے'دھکیل دیا
سابق وزیرِ دفاع کی العربیہ سے گفتگو
بين الاقوامى