قبضہ مغربی کنارے میں جہاں اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینی عوام پر مشترکہ طور پر اور الگ الگ عام طور پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔
مگر اسی ہفتے بالکل منفرد واقعہ پیش آیا ہے۔ جس میں بے قابو یہودی آباد کاروں نے اپنی اسرائیلی فوج پر بھی حملہ کیا اور پتھراؤ کر کے فوجیوں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے آیک گاؤں میں یہودی آبادکاروں میں یہودی آباد کاروں اور فلسطینیؤں کے درمیان ایک خوفناک تصادم جاری تھا۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق کفر مالک نامی فلسطینی آبادی کے اس علاقے میں یہودی آبادکاروں کے بد ترین حملے کے نتیجے میں بدھ کے روز 3 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ کئی زخمی ہو گئے تھے۔
جب اس واقعے کے طول پکڑ جانے پر اسرائیلی فوج بھی موقع پر پہنچی تو اس نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے متحارب فریقوں کو منتشر کرانے اور یہودی آباد کاروں کو موقع سے محفوظ فرار میں مدد دینے کی کوشش کی۔
لیکن یہودی آباد کاروں نے اس پر بجائے اس کے فوجی دستے کی بات مانکر باقی کارروائی کسی اور دن کے لیے ملتوی کر دیتے انہوں نے اس فلسطینی گاؤں سے واپس جانے سے انکار کر دیا۔ مزید یہ کہ اسرائیلی فوج پر بھی پتھراؤ شروع کر دیا۔
یہ درجنوں یہودی اباد کار تھے جنہوں نے فوجی گاڑیوں پر ڈنڈے برسائے اور پتھر پھینکے ۔جس سے فوجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق یہ صرف دونوں طرف کے لوگوں کو منتشر کرنے گئے تھے۔ فوجیوں پر باقاعدہ حملہ آور ہونے کی بھی کوشش کی اور انہیں گالیاں دیتے رہے۔ اس دوران اسرائیلی فوجیوں کے علاقہ بٹالین کمانڈر پر بھی حملہ کیا اور اسے زدو کوب کیا۔ بالآخر اسرائیلی فوج انہیں منتشر کرنے میں کامیاب ہوگئی۔۔نیز 6 یہودی آباد کاروں کو گرفتار بھی کر کے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔
تاہم اسرائیلی فوج نے آنہیں اپنے بیان میں یہودی آباد کار کہہ کر ان کا نام لینے سے گریز کیا ہے۔ حتی کہ اے ایف پی کے اس بارے میں دریافت کرنے پر بھی اس بارے میں زبان بند رکھی ہے۔
البتہ دیگر ذرائع نے انہیں یہودی آباد کار ہی بتایا ہے۔ اسرائیلی فوج سے جب اے ایف پی نے ان اسرائیلیوں کے یہودی آباد کار ہونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے یہ سوال پولیس کے جواب کے لیے چھوڑ دیا۔
ادھر وزیر دفاع نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ اسرائیل کے اپنے شہریوں نے فوجیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔
وزیر دفاع نے ان تمام حملہ اوروں کو تلاش کرنے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کا حکم دیا ہے۔
تاہم اسرائیلی اخبار ہارٹز نے رپورٹ کیا ہے کہ اگلے ہی روز پانچ یہودی آباد کاروں کو پولیس نے رہا کر دیا ۔ جبکہ پولیس نے اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجیوں پر حملے کے علاوہ تین فلسطینیوں کو بھی یہودی اباد کاروں نے بدھ کے روز کفر مالک میں شہید کیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ان تین فلسطینیوں کے جنازے کے وقت کئی سو افراد جمع ہوئے۔
-
غزہ میں غذائی قلت کے سبب فوت بچوں کی تعداد 66 ہو گئی: طبی ذرائع
غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں میں اضافے کے ساتھ فلسطینیوں کی جانب سے 50 نئی قبروں ...
بين الاقوامى -
غزہ کی پٹی کی جنگ سب سے زیادہ خونی بن گئی ... اسرائیل 4% آبادی کو ہلاک کر چکا ہے
رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیل نے فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ ...
مشرق وسطی -
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 60 افراد ہلاک، جنگ بندی کے امکانات قریب
حملے جمعے کے اواخر سے ہفتے کی صبح تک جاری رہے
مشرق وسطی