یمن کے شمال مغربی شہر تعز میں جمعرات کی صبح ایک ایندھن اسٹیشن پر ہونے والے شدید ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دس سے زائد عام شہری زخمی ہو گئے۔
مقامی حکام کے مطابق حملہ شہر کے شمال مشرقی علاقے میں واقع "القدسی ایندھن اسٹیشن" کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔ زخمیوں کو فوری طور پر الثورہ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد ایندھن اسٹیشن مکمل طور پر جل گیا جبکہ اس کے اردگرد کے کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حوثی ڈرون حملے کا الزام
یمنی وزارت دفاع کے سرکاری ویب سائٹ "ستمبر نیٹ" نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے ڈرون طیاروں کے ذریعے ایندھن کے ذخائر کو براہ راست نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق، حملے سے ایندھن اسٹیشن مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور نزدیکی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ سکیورٹی اور فائر بریگیڈ ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، آگ بجھانے اور زخمیوں کی مدد میں مصروف رہیں۔
تاحال حوثی گروپ نے اس حملے سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔
یاد رہے کہ حوثی جنگجوؤں نے 2014ء میں قانونی حکومت کا تختہ الٹ کر دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ تعز سمیت مختلف علاقوں پر وقفے وقفے سے ڈرون حملے اور گولہ باری کرتے آ رہے ہیں، جن سے شہری جانی و مالی نقصان اٹھا رہے ہیں۔