شام اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے امریکہ سے تعاون کرنے پر تیار ہے: اسد الشیبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 1974 کے اس معاہدے پر عمل کے لیے تیار ہے جسے اقوام متحدہ کی مدد سے طے کیا گیا تھا اور فیصلہ ہوا تھا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان بفر زون قائم کیا جائے گا اور یو این او کے اہلکار اس بفر زون پر گشت کریں گے تاکہ دونوں ملک اور ان کی افواج باہم ٹکراؤ سے بچے رہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد شامی وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے اپنے ملک کی طرف سے تعاون پر آمادگی ظاہر کرنے کے بارے میں ایک جاری کردہ بیان میں اس امر کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے امریکہ ان دنوں شام اور اسرائیل کے درمیان نارملائزیشن کی کوشش کر رہا ہے تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات کے نئے رشتے میں منسلک ہو جائیں اور امن پسند پڑوسیوں کی طرح رہیں۔

اس سلسلے میں شام کے لیے امریکی ایلچی تھامس بیرک بطور خاص متحرک ہیں۔ انہوں نے پچھلے ہفتے کہا تھا اب اسرائیل اور شام دونوں کے درمیان امن قائم کرنا ضروری ہے۔

شام کے نئے صدر احمد الشرع نے بھی اسرائیل کے بارے میں اپنے لہجے میں نرمی اور خیالات میں تبدیلی کے اشارے دیے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ اور اس کی حامی پرآکسیز کے بعد امریکہ کو بڑی امید ہے کہ ابراہم معاہدہ عرب دنیا میں آگے بڑھ سکے گا اور اسرائیل کے ساتھ کئی مسلم ممالک میں بھی تعلقات قائم ہونے کی راہ ہموار ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں