اسرائیل نے بین الاقوامی تنظیموں کو شمالی غزہ میں امداد تقسیم کرنے کی اجازت دے دی

دائیں بازو کے انتہا پسند کٹر یہودی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ کی شمالی غزہ میں امداد کی فراہمی کی سخت مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے بین الاقوامی تنظیموں کو شمالی غزہ میں امدادی سامان تقسیم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ بات اتوار کو "ٹائمز آف اسرائیل" نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کی، جبکہ حکومتی ترجمان نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

حال ہی میں اسرائیل نے متنازعہ "فاؤنڈیشن فار ہیومینیٹیریَن ریلیف ان غزہ" نامی تنظیم کو بھی امداد کی تقسیم کے لیے سپورٹ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس امداد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ امریکہ نے اس نئے انتظام کی حمایت کی، جبکہ اقوام متحدہ نے اس پر تنقید کی ہے۔

مذکورہ تنظیم کی تقسیمِ امداد کی سرگرمیاں متعدد مہلک واقعات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہی ہیں۔ شمالی غزہ میں اس تنظیم کی جانب سے ابھی تک کوئی تقسیم مرکز قائم نہیں کیا گیا، جہاں دیگر بین الاقوامی تنظیمیں سرگرم رہی ہیں۔

سمو ٹریچ کی کڑی تنقید

اس پیش رفت پر اتوار کے روز اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک "سنگین غلطی" ہے جو حماس کے مفاد میں جائے گا۔

انہوں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پر الزام لگایا کہ وہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران فوج کو حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کا پابند بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ سموٹریچ نے کہا کہ وہ "اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں"، تاہم انہوں نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی کھلی دھمکی نہیں دی۔

نیتن یاھو کی ٹرمپ سے ملاقات

سموٹریچ کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب نیتن یاھو پیر کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واشنگٹن میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ ملاقات کا مقصد امریکی حمایت یافتہ 60 روزہ جنگ بندی منصوبے پر بات چیت کرنا ہے۔

سموٹریچ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا کہ "حکومت اور وزیراعظم نے امداد کی ایسی راہ ہموار کر کے سنگین غلطی کی جس سے حماس بھی مستفید ہو سکتی ہے"۔ ان کے بقول"یہ امداد بالآخر حماس تک پہنچے گی اور جنگ کے دوران دشمن کے لیے لاجسٹک سپورٹ کے مترادف ہو گی"۔

اسرائیل حماس پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ امداد اپنے جنگجوؤں کو فراہم کرتی ہے یا اسے فروخت کر کے اپنی عسکری سرگرمیوں کے لیے سرمایہ اکٹھا کرتی ہے۔ حماس ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ ایک بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں حالات اگلے چند ماہ میں پانچ لاکھ افراد کو قحط کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

اسرائیل نے مئی میں تین ماہ کے محاصرے کے بعد جزوی طور پر امداد کی فراہمی کی اجازت دی تھی، مگر 27 جون کو دو اسرائیلی حکام نے بتایا کہ شمالی غزہ میں امداد کا داخلہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

نیتن یاھو پر اسرائیل میں عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار کریں، تاہم ان کے بعض دائیں بازو کے اتحادی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اتوار کے روز اسرائیلی مذاکراتی ٹیم قطر پہنچی ہے، جہاں ممکنہ جنگ بندی اور غزہ میں یرغمال افراد کی رہائی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

یاد رہے کہ جنوری میں سموتریتش نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت جنگ کے مقاصد حاصل کیے بغیر اسے ختم کرتی ہے تو وہ اتحاد سے علیحدہ ہو جائیں گے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں حکومت کو معمولی اکثریت حاصل ہے، لیکن کچھ اپوزیشن ارکان نے عندیہ دیا ہے کہ اگر جنگ بندی پر اتفاق ہو جائے تو وہ حکومت کو بچانے کے لیے حمایت دے سکتے ہیں۔

جنگ کا آغاز اور ہلاکتیں

یہ جنگ اکتوبر 2023ء میں اس وقت شروع ہوئی جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر ایک بڑا حملہ کیا، جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو قیدی بنایا گیا۔

جوابی کارروائی میں اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری کی، جس میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 57 ہزار سے زائد فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، انسانی بحران نے شدت اختیار کی اور غزہ کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں