سعودی عرب کی وزارتِ ثقافت نے انکشاف کیا ہے کہ مملکت بھر میں 25 ہزار سے زائد تاریخی ورثے کے اثاثے باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدام سعودی ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کے تحفظ اور دستاویزی ریکارڈ کی تیاری کے جاری منصوبے کا حصہ ہے۔
سال 2024 ءکے دوران تاریخی و ثقافتی مقامات پر آنے والے وزیٹرز کی تعداد 65 لاکھ تک جا پہنچی، جو عوامی اور سیاحتی دلچسپی میں نمایاں اضافے کا مظہر ہے۔
وزارتِ ثقافت سے وابستہ ادارہ "ہیئۃ التراث" نے بتایا کہ اس کے فیلڈ یونٹس نے ملک بھر میں سروے اور دستاویز بندی کا کام مزید تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں 2024ء میں 1100 سے زائد نئے مقامات کو قومی فہرست میں شامل کیا گیا۔ اس طرح اندراج شدہ مقامات کی کل تعداد بڑھ کر 3646 ہو گئی ہے۔
یہ مہم جدہ کے تاریخی علاقے، نجران، عسیر اور تبوک جیسے علاقوں میں واقع تاریخی عمارات اور مقامات پر محیط ہے۔ اس کے علاوہ بعض دیہات اور مقامی مراکز کو پہلی بار دریافت کر کے جدید ڈیجیٹل سروے اور ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے دستاویز کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2024 ءمیں مملکت کے تاریخی مقامات پر 6.5 ملین افراد نے دورہ کیا جو گذشتہ برسوں کی نسبت قابل ذکر اضافہ ہے۔ الدرعیہ، العلا اور جدہ تاریخی شہر جیسے مقامات سیاحوں کے لیے خاص کشش کا باعث بنے، جہاں ثقافتی تقاریب، موسمی میلے اور ورثے سے متعلق نمائشوں نے وزیٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا۔
یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قومی ورثے کے حوالے سے معاشرتی شعور میں نمایاں بہتری آئی ہے، جب کہ وزارتِ ثقافت نے اس اثاثے کو اقتصادی اور سیاحتی ترقی کے ایک مستقل ذریعہ میں ڈھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ تمام کوششیں سعودی ویژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں، جو ثقافت اور ورثے کو قومی ترقی کے بنیادی ستونوں میں شامل کرتی ہیں اور عالمی ثقافتی نقشے پر مملکت کی شناخت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔