آسٹریلیا نے غزہ سے آنے والی فلسطینی دادی کو حراست میں لے لیا

سکیورٹی رسک' قرار دینے کے خدشے کے پیش نظر ویزا منسوخی کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ جنگ سے نکل کر آسٹریلیا آنے والی ایک فلسطینی خاتون کو آسٹریلیوی امیگریشن افسران نے سڈنی میں ان کے بیٹے کے گھر پر چھاپہ مارنے کے بعد حراست میں لے لیا۔

خاتون کے اہل خانہ نے بتایا کہ 61 سالہ ماہا المصری کو جمعرات کے روز علی الصبح چھاپے میں آسٹریلوی بارڈر فورس کے 15 ارکان ساتھ لے گئے تھے۔

گارڈین آسٹریلیا کی رپورٹ کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ کریکٹر ٹیسٹ میں ناکام ہو جانے کے بعد ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا۔

ان کے کزن محمد المصری نے بتایا کہ خاتون فروری 2024 میں مصر کے ساتھ رفح راہداری کے راستے غزہ سے نکلیں اور اس کے فوراً بعد سیاحتی ویزے پر آسٹریلیا پہنچیں جہاں ان کے خاندان کے بہت سے لوگ رہتے ہیں۔

محمد نے گارڈین کو بتایا کہ وہ مغربی سڈنی میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہ رہی تھیں جہاں صبح 5:30 بجے چھاپہ مارا گیا۔ انہیں ایک قریبی پولیس سٹیشن لے جایا گیا اور ولا ووڈ حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔

ان کا ویزا نائب وزیر برائے شہریت و ثقافتی امور جولین ہل نے منسوخ کر دیا جنہیں "معقول طور پر شبہہ ہے کہ وہ کریکٹر ٹیسٹ پاس نہیں کرتیں" اور انہوں نے "اطمینان کا اظہار کیا کہ یہ منسوخی قومی مفاد میں تھی،" اخبار اور ایس بی ایس نیوز کی ملاحظہ کردہ دستاویز میں کہا گیا۔

اخبار نے کہا، آسٹریلوی سکیورٹی انٹیلی جنس آرگنائزیشن نے المصری کو "براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سلامتی کے لیے خطرہ" قرار دیا۔

محمد نے کہا کہ ان کی طبیعت خراب تھی، وہ خوفزدہ تھیں اور انہیں فون پر بات کرنے میں مشکل ہو رہی تھی کیونکہ وہ بہت پریشان تھیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ چھوڑنے کی اجازت ملنے سے قبل آسٹریلوی اور اسرائیلی حکام نے انہیں سکیورٹی کے لیے چیک کیا تھا۔

محمد نے کہا، "وہ ایک بزرگ عورت ہیں، وہ کیا کر سکتی ہیں؟ حراست میں لینے کی وجہ کیا ہے؟ انہیں ہمیں بتانا ہو گا کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ ان کے پاس (غزہ واپس جانے کے لیے) کوئی گھر، کچھ نہیں ہے۔"

وزیرِ داخلہ ٹونی برک کے ترجمان نے ایس بی ایس نیوز کو بتایا، حکومت اس کیس پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔

ترجمان نے کہا، "عوامی سطح پر کوئی بھی معلومات فرد کی طرف سے فراہم کی جا رہی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ ہماری انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات سے مطابقت رکھتی ہوں۔"

حفاظتی ویزا کے لیے درخواست دینے کے بعد المصری کو مبینہ طور پر گذشتہ سال جون میں بریجنگ ویزا دیا گیا تھا۔

گذشتہ سال ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آسٹریلیا پر الزام لگایا تھا کہ 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت شروع ہونے کے بعد سے اب تک 7000 سے زائد فلسطینیوں کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں