لندن: پولیس نے فلسطین کی حامی تنظیم 'فلسطین ایکشن' کے مزید کارکن گرفتار کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی پولیس نے لندن میں فلسطین کی حامی انسانی حقوق کی تنظیم 'فلسطین ایکشن' سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے لیے سرگرم مزید کئی کارکن گرفتار کر لیے ہیں۔ یہ نئی گرفتاریاں ہفتہ کے روز عمل میں لائی گئی ہیں۔

برطانیہ نے ایک ہفتے پہلے انسانی حقوق کی اس تنظیم پر پابندی لگا دی تھی اور اسے دہشت گردی کی حامی تنظیم قرار دیا تھا۔

لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے کہ اس نے 48 کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جو دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم کی حمایت کرتے تھے۔

پولیس نے لکھا ہے کہ علاقے کو ایک گھنٹے کے دوران خالی کرا لیا گیا۔ پولیس نے یہ بیان ہفتہ کی سہ پہر کو جاری کیا ہے۔

ایک ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے پولیس 'فلسطین ایکشن' نامی تنظیم کے حامیوں کی طرف جا رہی ہے۔ جو پارلیمنٹ کی بلڈنگ کے نزدیک مہاتما گاندھی کے مجسمے کے پاس لنچ ٹائم میں اکٹھے ہو کر احتجاج کر رہے تھے۔

فلسطین کی حامی اس انسانی حقوق تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہفتہ کے روز حکومت کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے خلاف برطانیہ کے مختلف شہروں میں احتجاج کرے گی۔

اس انسانی حقوق کی تنظیم نے برطانوی حکومت کے پابندی لگانے کے اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

میٹرو پولیٹن پولیس کے ترجمان نے 'اے ایف پی' کو بتایا پولیس نے ہفتہ کے روز اس وقت بھاری نفری کے ساتھ 40 کارکنوں کو حراست میں لے لیا جب وہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف کتبے اٹھائے ہوئے تھے اور 'فلسطین ایکشن' نامی تنظیم کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔

پولیس نے ایک ہفتے کے بعد تقریباً 29 لوگوں کو گرفتار کیا جن میں طبی کارکنوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ ان سب کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔

یاد رہے برطانیہ نے 5 جولائی کو 'فلسطین ایکشن' نامی تنظیم پر پابندی عائد کی تھی اور پولیس اس وقت سے انتباہ کر رہی تھی کہ جو بھی 'فلسطین ایکشن' نامی تنظیم کی اب حمایت کرے گا وہ جرم کا مرتکب ہوگا۔

پولیس ترجمان نے 'ایکس' پر لکھا 'فلسطین ایکشن' کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ایک مجرمانہ کارروائی ہے۔ اس لیے اسے روک دیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پچھلے ہفتے دیکھا تھا کہ جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

'فلسطین ایکشن' پر لگائی گئی اس حکومتی پابندی کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب اس پر پابندی کا قانون بن چکا ہے۔

حکومتی عائد کردہ پابندی کے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ یہ پابندی دہشت گردی ایکٹ 2000 کے تحت لگائی گئی ہے اور اس کی فوری وجہ جنوبی انگلینڈ میں برطانوی شاہی فضائیہ کے اڈے پر اس 'فلسطین ایکشن' نامی تنظیم کے کارکنوں کا احتجاج بنا ہے۔ جنہوں نے برطانوی طیاروں پر رنگ پھینک کر تقریباً 7 ملین پاؤنڈ کا نقصان کیا۔ اس سلسلے میں چار افراد پر پہلے ہی مقدمہ شروع کیا جا چکا ہے اور یہ چاروں افراد حراست میں لے لیے گئے تھے۔

'فلسطین ایکشن' نے برطانوی حکومت کی ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں