غلطی سے جدہ پہنچ جانے والے پاکستانی مسافر کو ملک بدر کر دیا گیا
شاہ زین احمد نے غفلت پر ایئر سیال کو قانونی نوٹس بھیج دیا
ایک پاکستانی شخص نے فضائی کمپنی ایئر سیال کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے جو اس ہفتے کے شروع میں غلط پرواز میں سواری کی وجہ سے سعودی عرب پہنچ گیا تھا۔ نوٹس میں ان کے وکیل کے مطابق "سخت غفلت" کا معاوضہ طلب کیا گیا ہے۔
کراچی کے رہائشی ملک شاہ زین احمد کو آٹھ جولائی کو نجی ایئرلائن کی پرواز پی ایف-146 پر لاہور سے کراچی جانا تھا۔ تاہم وہ بغیر کسی ویزا یا پاسپورٹ کے جدہ جانے والی بین الاقوامی پرواز میں سوار ہو گئے اور بعد میں انہیں سعودی امیگریشن حکام نے حراست میں لے کر ملک بدر کر دیا۔
احمد کے وکیل نے ایئر سیال کے سربراہ کو ارسال کردہ قانونی نوٹس میں لکھا ہے کہ ایئرلائن کی طرف سے "ڈیوٹی سے مکمل غفلت، لاپرواہی اور آپریشنل ناکامی" ان کے مؤکل کی بین الاقوامی پرواز پر غلط بورڈنگ کا باعث بنی۔
ایڈووکیٹ محمد نواز ڈاہری نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم نے ایئرلائن کو نوٹس دیا ہے اور اگر وہ میرے مؤکل کو معاوضہ دینے میں ناکام رہے تو ہم ایک پٹیشن دائر کریں گے۔"
قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایئرلائن نے احمد کی مدد کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں ذلت اور اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں شدید ذہنی صدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا اور کراچی واپسی کے لیے ایک اور ٹکٹ خریدنا پڑا۔
نوٹس میں ایئرلائن پر سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2014 کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے جس میں "خراب" سروس، شناخت کی تصدیق کی کمی اور "حفاظت اور پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے گمراہ کن نمائندگی" کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اس میں پاکستان کے سول ایوی ایشن رولز 1994، پاکستان امیگریشن آرڈیننس 1979، اور 1999 کے مونٹریال کنونشن سمیت بین الاقوامی ہوائی سفری کنونشنز کی خلاف ورزی کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا، "بنیادی فرائض کی انجام دہی میں آپ کی ایئرلائن کی ناکامی کے باعث مسافروں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا اور ہوائی سفر کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی۔"
جمعہ کو ایک بیان میں پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے کہا کہ اس نے اس غلطی کا نوٹس لیا ہے اور سول ایوی ایشن ریگولیٹر اور سٹیشن منیجر کو خطوط لکھے ہیں۔
پی اے اے کے ترجمان سیف اللہ نے عرب نیوز کو بتایا کہ خط میں سول ایوی ایشن ریگولیٹر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ غفلت کی مرتکب اس ایئرلائن پر بھاری جرمانہ عائد کرے۔
آن لائن زیرِ گردش ایک ویڈیو کلپ میں احمد نے بتایا کہ وہ آٹھ جولائی کو کراچی جانے والی پرواز میں سوار ہونے کے لیے لاہور ایئرپورٹ گئے تھے لیکن بورڈنگ پاس حاصل کرنے کے بعد "غلطی سے" جدہ جانے والی پرواز میں بیٹھ گئے۔
انہوں نے کہا، "دو گھنٹے کے بعد میں نے [خود سے] پوچھا، 'یہ طیارہ لینڈنگ نہیں کر رہا'۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ میں غلط طیارے میں سوار ہو گیا تھا۔"
قانونی نوٹس میں ہرجانے کے ساتھ ساتھ دو دن کے اندر تحریری جواب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایئرلائن تعمیل کرنے میں ناکام رہے تو اس کےخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جس میں ایک آئینی پٹیشن اور پاکستان کے ایوی ایشن اور انسانی حقوق کے حکام کو شکایات شامل ہیں۔
ایئر سیال نے تاحال اس معاملے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔