ایلون مسک کے اسٹارٹ اپ ایکس اے آئی نے ہفتے کے روز اپنے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹ گروک کی شائع کردہ جارحانہ پوسٹس پر معافی مانگی۔ اس کے لیے اس سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد تھا کہ یہ انسان کی طرح کام کرے۔
منگل کے اپ گریڈ کے بعد گروک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹس میں نازی رہنما ایڈولف ہٹلر کی تعریف کی اور کہا کہ یہودی کنیت والے لوگوں کے آن لائن نفرت پھیلانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔
بڑھتے ہوئے غم و غصے کے باعث ایکس نے ان میں سے بعض پوسٹس کئی گھنٹوں بعد حذف کر دیں۔
"ہم اس خوفناک رویئے کے لیے دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہیں جس کا کئی لوگوں نے تجربہ کیا،" کمپنی نے ایکس پر ہفتہ کو پوسٹ کیا اور مزید کہا کہ اس نے "مزید غلط استعمال روکنے کے لیے" سسٹم میں ترمیم کر دی تھی۔
کمپنی نے کہا کہ یہ تبدیلی اس وقت ہوئی جب چیٹ بوٹ سے کہا گیا، "ایک انسان کی طرح پوسٹ کا جواب دیں" اور "ایسے بتائیں گویا آپ ان لوگوں کو ناراض کرنے سے نہیں ڈرتے جو سیاسی طور پر درست ہیں۔"
نتیجتاً گروک صارفین کے "شدت پسندانہ خیالات" کے لیے حساس اور اثرپذیر ہو گیا جس کی وجہ سے اس نے "صارف کو مشغول کرنے کے لیے غیر اخلاقی یا متنازعہ رائے پر مشتمل ردِ عمل" پیدا کیا۔
گروک تنازعات میں گھرا ہوا ہے جس کے بارے میں مسک نے وعدہ کیا تھا کہ یہ ایک "چبھنے والا" سچ گو ہو گا۔
مارچ میں ایکس اے آئی نے 33 بلین ڈالر کے معاہدے کے تحت ایکس حاصل کیا جس سے کمپنی کے لیے پلیٹ فارم کے ڈیٹا وسائل کو چیٹ بوٹ کی ترقی کے ساتھ مربوط کرنا ممکن ہو گیا۔
مئی میں گروک نے سفید فام جنوبی افریقیوں پر مبینہ جبر کے بارے میں غیر حمایت یافتہ دائیں بازو کے پروپیگنڈے کے ساتھ پوسٹس بنا کر تنازعہ کو ہوا دی جسے اس نے "سفید نسل کشی" قرار دیا۔
بدھ کے روز مسک نے اسسٹنٹ کے ایک نئے ورژن گروک فور کی نقاب کشائی کی جو سات جولائی کی تازہ معلومات سے غیر متعلق تھا۔