یمن کے شہر تعز کے شمالی علاقے میں واقع تحصیل التعزیہ کے محلے الہشمہ میں جمعے کے روز پیش آنے والے ایک اندوہناک واقعے میں پانچ بچے اس وقت جاں بحق ہو گئے جب وہ گھر کے باہر کھیلتے ہوئے ایک ناکارہ گولے سے کھیلنے لگے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نامہ نگار اوسان سالم کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے اپنے گھر کے سامنے "حبیل النور" نامی علاقے میں کھیل رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے ایک پرانا گولہ دیکھا جو حوثی گروپ کی طرف سے داغا گیا تھا مگر پھٹنے سے رہ گیا تھا۔
لاعلمی اور معصومیت میں بچے اس گولے سے کھیلنے لگے، جو اچانک زوردار دھماکے سے پھٹ گیا اور پانچ بچوں کی جان لے گیا۔
مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ گولہ ان جنگی باقیات میں سے تھا جو ماضی میں علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد زمین پر چھوڑ دی گئی تھیں۔
تعز کے فوجی محاذ کی قیادت نے واقعے کا ذمہ دار براہ راست حوثی گروپ کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ شہری علاقوں میں جنگی گولہ بارود چھوڑ دینا نہایت سنگین غفلت ہے جس کے بھیانک نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ فوج کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یمنی فوج کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ مکمل طور پر ایک حوثی گولہ کے پھٹنے کا نتیجہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جاں بحق ہونے والے بچے ایک پرانے حوثی گولے سے کھیل رہے تھے جو اچانک پھٹ گیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یمن کے ان علاقوں میں موجود خطرناک صورت حال کو اجاگر کرتا ہے جہاں جنگی باقیات، بارودی سرنگیں اور ناکارہ گولے عوامی علاقوں میں موجود ہیں۔ ان سے شہریوں کی زندگیاں مسلسل خطرے میں ہیں۔ ملک کے کئی علاقوں میں ان مہلک مواد کو صاف کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث ایسی ہلاکت خیز واقعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔