کیا دنیا کے سب سے بڑے پرندے "موا" کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کامیاب ہوسکیں گی؟
تقریبا227 کلو وزنی، 3.4 میٹر اونچا یہ پرندہ 150 سال قبل شکار کے باعث ناپید ہو گیا تھا
"موا" نامی پرندہ دنیا کا سب سے بڑا پرندہ تصور کیا جاتا ہے، جس کا قد تقریباً 11 فٹ (3.4 میٹر) اور وزن 500 پاؤنڈ (یعنی 227 کلوگرام) تھا۔ تاہم یہ پرندہ 150 سال قبل ختم ہو گیا، جب جنوبی بحرالکاہل سے تعلق رکھنے والے ابتدائی پولینیزی باشندوں نے تیرہویں صدی کے آخر میں شدید شکار کے ذریعے اسے ناپید کر دیا۔
اب اس پرامن پرندے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جنگلی جانوروں پر گزارہ کرتا تھا اور نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے کے جنگلات کے کنارے آباد تھا۔ اس مقصد کے لیے آسکر ایوارڈ یافتہ نیوزی لینڈی فلم ساز پیٹر جیکسن امریکی ریاست ٹیکساس کی حیاتیاتی انجینیئرنگ کمپنی "کولوسل بایوسائنسز" کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ وہی کمپنی ہے جس نے حال ہی میں شمالی امریکہ کے ایک نایاب قسم کے بھیڑیے کو دوبارہ پیدا کر کے عالمی توجہ حاصل کی تھی۔ اس پراجیکٹ میں مشہور مصنف جارج مارٹن جنہوں نے "گیم آف تھرونز" تحریر کی بہ طور سرمایہ کار شریک ہیں۔
"فوربس" نے فراہم کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسی منصوبے کی قیادت نیوزی لینڈ کی کینٹربری یونیورسٹی میں قائم "نگائی تاہو" تحقیقاتی مرکز کر رہا ہے، جو کہ "کولوسل" کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ پیٹر جیکسن، جو "لارڈ آف دی رنگز" اور "ہوبٹ" جیسی فلموں کے ہدایت کار ہیں، اس منصوبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ "نگائی تاہو" نامی ماوری قبیلے کی جانب سے ہو رہا ہے، جنہیں قدیم پولینیزی آباد کاروں کی نسل سمجھا جاتا ہے۔
نایاب جینیاتی مواد جمع کیا جائے گا
مرکز کے ڈائریکٹر اور "نگائی تاھو" قبیلے کے رکن مائیک اسٹیونز کے مطابق ’موا‘ کے ساتھ ساتھ اس کے آٹھ دیگر چھوٹے قد کے قریبی اقسام کے پرندوں کا جینیاتی مواد بھی اکٹھا کیا جائے گا، جن میں بعض کا قد رومن مرغے کے برابر تھا۔
یہ جینیاتی معلومات حیاتیاتی ڈیٹا بینکس میں محفوظ کی جائیں گی تاکہ نیوزی لینڈ کے جزیرے کی اس انفرادیت کو محفوظ رکھا جا سکے، جو اپنی تنوع بھری حیاتیاتی زندگی کے سبب دنیا کے خاص علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
موا گوشت اور ہڈیوں کا ذریعہ تھا
اسٹیونز نے بتایا کہ قدیم پولینیزی باشندے جو مختلف جزیروں سے ہجرت کر کے نیوزی لینڈ پہنچے، اس دور میں پروٹین کے چند دستیاب ذرائع میں "موا" پر انحصار کرتے تھے۔ اس کی ہڈیوں کو اوزار بنانے اور روزمرہ کے دیگر استعمالات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
جب یہ پرندہ ناپید ہو گیا تو ماوری قبائل کو نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کی طرف ہجرت کرنا پڑی، جہاں کا موسم نسبتاً معتدل تھا۔
اسٹیونز نے مزید کہاکہ "نیوزی لینڈ کی حکومت کے ساتھ ہماری زمینوں سے متعلق تاریخی مفاہمت کے تین عشروں بعد ہم ماوری اب مظلوم کی حیثیت سے نکل کر ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔"
انہوں نے کہاکہ "یہ منصوبہ ہمارے خوابوں کا حصہ ہے، جس میں ہم ایسے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جن کا خواب ہم سے تھوڑا مختلف ضرور ہے، لیکن مقصد مشترک ہے"۔
نر، مادہ سے آدھے قد کے حامل ہوتے تھے
فلم ساز پیٹر جیکسن نے بتایا کہ پہلی جنگِ عظیم میں نیوزی لینڈ کے سپاہی اپنی وردیوں پر "موا" کی علامت لگاتے تھے، جو اس پرندے کی قومی اہمیت کا مظہر تھا۔
انہوں نے کہاکہ "یہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے آج تک کسی انسان نے زندہ حالت میں نہیں دیکھا۔ ہمیشہ یہ خیال آتا ہے کہ کاش ہم جان سکتے کہ وہ کیسے نظر آتے تھے؟ ان کی موجودگی کا کیا احساس ہوتا؟ یہ ایک حیرت انگیز تصور ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ جلد حقیقت بنے گا"۔
معروف ماہر حیاتیات پروفیسر پیٹر اسکوفیلڈ کے مطابق "موا" ایک عجیب پرندہ تھا۔ نر، مادہ سے نصف حجم رکھتے تھے اور بچوں کی پرورش کی تمام ذمہ داریاں بھی انہی کے ذمے تھیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ "ہم نے نظریاتی طور پر 150 سال سے اس پرندے کے ماحولیاتی اثرات کا مطالعہ کیا ہے، لیکن یہ منصوبہ ایک ایسی سائنسی تجربہ گاہ بن سکتا ہے جو ہمیں ماضی کے ماحول اور ناپید جانوروں کے بارے میں بہت کچھ سکھائے گا، شاید ہماری توقعات سے بھی بڑھ کر یہ معلومات افزا ہوسکتا ہے"۔
-
جلد کی صحت اور ہائیڈریشن کو بڑھانے والی پانچ غذائیں
جلد کی دیکھ بھال صرف اس پر استعمال ہونے والی کاسمیٹک مصنوعات تک محدود نہیں ہے بلکہ ...
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی فرم آلودگی سے پاک توانائی منصوبے پر 8.3 ارب ڈالر خرچ کرے گی
متعدد سعودی کمپنیوں جن میں یوٹیلیٹیز ہیوی ویٹ 'اے سی ڈبلیو اے پاور' بھی شامل ہے نے ...
مشرق وسطی -
ایپل میں بڑی انتظامی تبدیلیاں، کیا ٹِم کُک رخصت ہونے والے ہیں؟
ٹِم کُک کے قریبی 20 اعلیٰ افسران سبکدوشی کے قریب، ایپل اہم موڑ پر پہنچ گئی
بين الاقوامى