متعدد سعودی کمپنیوں جن میں یوٹیلیٹیز ہیوی ویٹ 'اے سی ڈبلیو اے پاور' بھی شامل ہے نے بجلی خریداری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اتوار کے روز کیے جانے والے اس معاہدے کا مقصد صاف اور آلودگی سے پاک توانائی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنا ہے۔
اس منصوبے کے نتیجے میں 15 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ آگے بڑھ سکے گا۔ جس کی لاگت 8.3 ارب ڈالر ہوگی۔
سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق 'اے سی ڈیبلیو اے پاور' 'آرامکو' کی ذیلی کمپنی ہے۔ اس نے ایک بڑے انرجی ڈویلپر کے طور ہر 7 معاہدات پر دستخط کیے ہیں۔ جس میں شراکت داری کے بعد پانی و بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے آگے بڑھ سکیں گے۔
یہ منصوبے سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ 'پی آئی ایف' کی ملکیت ہیں۔ جبکہ 'اے سی ڈیبلیو اے پاور' 'آرامکو' کی ذیلی کمپنی ہے۔
ان منصوبوں میں 5 فوٹو والٹک سولر پلانٹس کا لگائے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہ سولر پلانٹس مختلف شہروں عسیر، مدینہ، مکہ، ریاض وغیرہ میں لگائے جائیں گے۔ جبکہ دو ونڈ پاور پروجیکٹس ریاض میں لگائے جائیں گے۔
سعودی عرب 2030 کے ولی عہد کے ویژن کے سلسلے میں قابل تجدید توانائی کی مدد سے 130 گیگا واٹ پیدا کرنے کی صلاحیت ممکن بنانا چاہتا ہے۔