دروز اسرائیلیوں کی شام میں داخل ہونے کی کوششیں ختم ... براہِ راست مناظر نے تصدیق کر دی

اسرائیلی فوجی ریڈیو نے واضح کیا ہے کہ اب بھی کچھ دروزی اسرائیلی شام کے اندر موجود ہیں اور اُنھیں واپس لانے کے لیے کام جاری ہے.

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آج جمعرات کے روز "اسرائیل - شام" سرحد سے براہِ راست نشر کی گئی تصاویر میں دیکھا گیا کہ سرحد پر موجود دروز افراد کا ہجوم منتشر ہو چکا ہے۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی دروز کی جانب سے شام میں داخل ہونے کی کوششیں اب رک چکی ہیں۔

ریڈیو نے مزید بتایا کہ کچھ اسرائیلی دروز تا حال شام کے اندر موجود ہیں اور انہیں واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس سے قبل بدھ کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دروز سے اپیل کی تھی کہ وہ شام کی طرف سرحد عبور نہ کریں، کیونکہ فوج نے مجدل شمس کے علاقے میں باڑ عبور کرنے کے کچھ واقعات کا مشاہدہ کیا تھا۔

نیتن یاہو نے اپنے دفتر سے جاری بیان میں دروز سے مخاطب ہو کر کہا "آپ اسرائیل کے شہری ہیں، سرحد عبور نہ کریں، آپ اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ آپ کو قتل کیا جا سکتا ہے یا اغوا کیا جا سکتا ہے۔"

اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا "سویداء اور جنوب مغربی شام میں صورتِ حال نہایت خطرناک ہے۔"
انہوں نے یہ بھی کہا "آپ اسرائیلی فوج کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، اس لیے میں آپ سے کہتا ہوں ... اپنے گھروں کو لوٹ جائیں اور فوج کو اپنا کام کرنے دیں۔"

دوسری جانب شامی صدر احمد الشرع نے جمعرات کی صبح اپنے خطاب میں اسرائیل پر "شام کے اندر فتنہ پھیلانے" کا الزام عائد کیا اور کہا کہ "اسرائیلی اقدامات نے (سویداء صوبے میں) صورتِ حال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔"

صدر الشرع نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ دروز شام کے سماجی تانے بانے کا ایک بنیادی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا "میں اپنی بات خاص طور پر اپنے دروز بھائیوں سے کہتا ہوں، جو اس وطن کے اصل حصے میں شامل ہیں ... شام کبھی بھی تقسیم یا فتنہ پردازی کی سرزمین نہیں بنے گا۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کے حقوق اور آزادی کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، اور ہم کسی بھی ایسے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں جس کا مقصد آپ کو کسی بیرونی فریق کے ساتھ گھسیٹنا یا ہمارے درمیان تقسیم پیدا کرنا ہو۔ ہم سب اس زمین کے شراکت دار ہیں، اور ہم کسی بھی فریق کو اس خوب صورت تصویر کو مسخ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جو شام کی پہچان اور تنوع کی عکاس ہے۔"

اتوار کے روز سویداء صوبے میں دروز مسلح افراد اور بدو جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں، جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ جھڑپوں کے شدت اختیار کرنے پر پیر کے روز سرکاری افواج نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین کے درمیان لڑائی روکنے کی کوشش کی۔ اسرائیل نے بھی اس تنازع میں مداخلت کی اور دمشق کے قریب اور جنوبی شام میں کئی فضائی حملے کیے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ ان کارروائیوں کے ذریعے "دروز کا تحفظ" کر رہا ہے۔

کل بدھ کی شام، شامی حکام نے سویداء میں دروز گروپوں کے ساتھ جنگ بندی کے ایک معاہدے تک پہنچنے کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں