امریکہ کی ممتاز تعلیم گاہ ہارورڈ یونیورسٹی اور ٹرمپ انتظامیہ عدالت میں آمنے سامنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکہ کی مایہ ناز یونیورسٹی 'ہارورڈ' اگلے چند گھنٹوں میں پیر کے روز امریکی ٹرمپ انتظامیہ کے اس بجٹ کٹوتی اقدام کے خلاف عدالتی سماعت میں اپنا مؤقف رکھے گی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے بجٹ میں 2.6 ارب ڈالر کی کٹوتی چند ماہ پہلے اس لیے کر دی تھی کہ اس یونیورسٹی میں غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں مسلسل احتجاج کیا جاتا رہا۔ جو امریکہ کی غزہ جنگ کے بارے میں سرکاری پالیسی کے خلاف تھا۔

خیال رہے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی تقریباً 5 مرتبہ ویٹو کر چکا ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیل کی اس جنگ میں ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے بھی امریکہ ہی اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست و اتحادی ملک ہے۔ لیکن اس کے ںاوجود ہارورڈ یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ اس غزہ جنگ کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتے رہے جس نے ٹرمپ انتظامیہ کو سخت ناراض کر دیا۔

پیر کے روز جب عدالت میں سماعت شروع ہو رہی ہے تو امریکہ و ہارورڈ یونیورسٹی دونوں کی تاریخ کا یہ انتہائی اہم مرحلہ ہوگا جب دونوں کے مابین جاری لڑائی عدالت اور میڈیا کے اہم موضوعات میں شامل ہوگی۔

اگر امریکہ کے ضلعی جج الیسن بروغس یونیورسٹی کے حق میں اور ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں تو اس فیصلے کے بعد یونیورسٹی کو ان تمام کٹوتیوں کی رقم واپس ملنا شروع ہوجائے گی جو ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف مراحل پر ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے بند کر دی تھیں۔

یہ کیس اس حوالے سے بڑا اہم ثابت ہوگا کہ حکومت تعلیمی شعبے کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے لیے فنڈز کی فراہمی یا روکنے کو ایک آلے کے طور پر استعمال کر سکتی ہے یا نہیں۔

اگرچہ ہارورڈ اور باقی تمام تعلیمی ادارے ملتی جلتی ایک ہی رائے رکھتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ کو تعلیمی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور یونیورسٹیوں کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔

اسی طرح کا ایک اور دیوانی مقدمہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسروں کی ایسوسی ایشن اور فیکلٹی ارکان کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں یونیورسٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی اور حمایت ہے۔

ہارورڈ کی طرف سے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف دائر کردہ مقدمہ میں صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے یونیورسٹی کے خلاف ردعمل میں کئی غلط فیصلے کیے ہیں۔ کیونکہ ہارورڈ یونیورسٹی نے 11 اپریل سے آنے والے خط میں کیے گئے مطالبات کو اہمیت نہیں دی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے لکھے گئے خط میں ہارورڈ یونیورسٹی سے یہ مطالبات کیے گئے تھے کہ یونیورسٹی کی حدود کے اندر احتجاج کے قواعد و قوانین کو تبدیل کیا جائے، یونیورسٹی میں داخلے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے اور انتظامیہ کی خارجہ امور سے متعلق پالیسیوں سے تجاوز نہ کیا جائے۔ نیز نئے داخلوں میں زیادہ سٹوڈنٹس کو لایا جائے۔

اس خط میں اس امر کی بھی نشاہدہی ہوتی ہے کہ امریکی انتظامیہ یہ سمجھنے لگی ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی لبرل ازم کے لیے ایک آماجگاہ کے طور پر کام کر رہی ہے۔ جبکہ کیمپیس کے اندر یہودیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی کے صدر ایلن گاربر نے اس توجہ دلانے کے بعد یہود مخالف کوششوں سے لڑنے کا وعدہ کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ یونیورسٹیوں کو یہ حکم نہ دے کہ انہیں کیا پڑھانا ہے اور انہیں کس کو داخلہ دینا ہے یا داخلہ نہیں دینا اور کس ٹیچر کو اپنے ہاں ملازمت میں لانا ہے اور کس کو نہیں لانا۔ کون سے موضوعات کو یونیورسٹی میں مضامین کا درجہ دینا ہے اور کون سے مضامین کو توجہ نہیں دینی۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی نے خود کرنا ہے۔

اس طرح ہاورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبات کو رد کر دیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ نے ہاورڈ یونیورسٹی کے لیے 2.2 ارب ڈالر کی وہ گرانٹ روک دی جو تحقیقی مقاصد کے لیے دی جاتی تھی۔

امریکی وزیر تعلیم لنڈا میکماہون نے باضابطہ طور پر اعلان کر دیا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کو اب حکومت کی طرف سے گرانٹس نہیں ملیں گی۔

کچھ ہی ہفتے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ اپنے کنٹریکٹس کو ختم کرنا شروع کر دیا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ان روکے گئے فنڈز کے حوالے سے عدالتوں کو لکھا جانے لگا۔

یاد ریے ہارورڈ وہ یونیورسٹی ہے جس کے اپنے انڈوومنٹ فنڈ کی مالیت 53 ارب ڈالر ہے۔ تاہم اس نے خبردار کیا کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے گرانٹس میں کٹوتی ہمارے تحقیقی منصوبوں کے لیے خطرناک ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں