اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ منگل کی صبح یمن سے داغا گیا ایک میزائل روک لیا گیا۔ ایک روز قبل اسرائیل نے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے زیرِ قبضہ الحدیدہ بندرگاہ پر فضائی حملے کیے تھے۔
فوج نے اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر بتایا کہ "اسرائیل کے مختلف علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد یمن سے داغا گیا ایک میزائل کامیابی سے روکا گیا۔"
اس سے چند گھنٹے قبل حوثی جماعت نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے پانچ ڈرون طیاروں کے ذریعے اسرائیل کے پانچ مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع نے ایک بیان میں کہا کہ "ان کی فورسز نے بن گوریون ہوائی اڈے، ایلات بندرگاہ، رامون ہوائی اڈے، اور یافا اور اسدود کے دیگر اہداف کو نشانہ بنایا۔" انھوں نے وضاحت کی کہ یہ کارروائی پانچ ڈرون طیاروں سے کی گئی، اور یہ اُن اسرائیلی فضائی حملوں کے رد عمل میں کی گئی جو پیر کے روز الحدیدہ بندرگاہ پر ہوئے تھے۔
حوثیوں پر حملے
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کیا تھا کہ اس نے الحدیدہ بندرگاہ میں موجود بنیادی ڈھانچے، انجینئرنگ مشینوں، ایندھن کے ڈرموں اور بحری آلات کو نشانہ بنایا ہے۔
پیر کے روز اسرائیلی فوج نے الحدیدہ اور مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی تھی۔
بعد ازاں ایک حوثی عہدے دار نے بتایا کہ "اسرائیل نے الحدیدہ بندرگاہ کے اس چبوترے کو نشانہ بنایا ہے جسے حال ہی میں دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔"
اسرائیلی فوجی ریڈیو نے اس سے پہلے اطلاع دی تھی کہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاتز نے کہا "ہم اس وقت الحدیدہ بندرگاہ میں حوثیوں کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔" انھوں نے مزید کہا "حوثی میزائل داغنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تو انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔" کاتز نے کہا کہ "ہم پوری قوت سے الحدیدہ بندرگاہ میں حوثیوں کا بنیادی ڈھانچہ دوبارہ قائم ہونے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا رہے ہیں۔"
بار بار ہونے والے حملے
کچھ دیر بعد اسرائیلی چینل 12 نے اعلان کیا کہ "یمن میں حوثیوں کے اہداف پر حملے مکمل ہو گئے ہیں۔"
سال 2023 کے آخر سے حوثی اسرائیل اور بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک سمجھی جانے والی جہازوں پر میزائل حملے کر رہے ہیں۔
اسرائیل ان حملوں کے جواب میں یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ مقامات کو نشانہ بناتا ہے۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر یمن کے ساحل کے قریب دو تجارتی جہازوں پر حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔
اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے الحدیدہ، راس عیسیٰ اور الصلیف کی بندرگاہوں پر اپنے لڑاکا طیاروں کی پروازوں کی وڈیو جاری کی، اور اعلان کیا کہ تقریباً 20 جنگی طیاروں نے یمن میں حوثیوں کے اہداف پر بم باری میں حصہ لیا۔