اسرائیل اور یوکرین نے بدھ کے روز اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملک ایران کی طرف سے درپیش خطرات کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ملکوں نے باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا ہے۔
اسرائیل اور یوکرین دونوں ملک اس پہلو سے بھی متفق ہیں کہ ایران روس کا بہت قریبی اتحادی ہے۔ اسی ناطے یہ دونوں ملک ایران کو بین الاقوامی منظر نامے پر ایک بری شناخت کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
یاد رہے اسرائیل ایک طویل عرصے سے ایران پر الزام لگا رہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش میں ہے۔ مگر ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
دوسری جانب یوکرین کی وزیر خارجہ آندری صبیحہ نے یوکرین پر روس کے مسلسل ایرانی ساختہ ڈرون طیاروں سے حملوں کے تناظر میں ایران کو ایک سامنے کا خطرہ قرار دیا ہے۔ وہ کیف میں اپنے اسرائیلی ہم منصب کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق ایران عالمی سلامتی کے لیے بھی سخت خطرہ ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر کا یوکرین کا دورہ 2023 سے اب تک کا کسی اعلیٰ ترین عہدے دار کا پہلا دورہ ہے۔ اس موقع پر یوکرینی وزیر خارجہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کی تحسین کرتے ہوئے امریکی حملوں کو جائز قرار دیا کہ ان کے نتئجے میں مشرق وسطیٰ کے لیے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر خارجہ یوکرین نے مزید کہا ہم دونوں ملک یوکرین اور اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان چلنجز کے حوالے سے ہم آج یہ ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ ایران سے درپیش خطرات کے لیے باہم بطور خاص مکالمہ شروع کریں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا ایران کے جوہری ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی تک پہنچنے کو روکنے کے لیے ہر کوشش یورپ اور یوکرین کی سلامتی کے لیے مفید ہوگی۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ صدر زیلنسکی بھی ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں چاہتے۔
یوکرین نے روسی حملے کے حوالے سے اسرائیل کے غیر متعلق سے رہنے کے موقف پر اظہار تاسف کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ دونوں کے مفادات یکساں ہیں۔
اسی مشترکہ مفادات کے ایجنڈے کے تحت ایک ڈیڑھ ماہ قبل اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ یہ جنگی سلسلہ ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے بتایا گیا تھا ، مگر اب بھی اسرائیل کا احساس ہے کہ ایرانی خطرے کا کلی طور پر تدارک نہیں ہو سکا ۔