یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر کے ملاقات میں یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے بات کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار یوکرینی صدر نے کئی سال بعد یوکرین آنے والے کسی اسرائیلی اعلیٰ عہدے دار کے طور کیف میں وزیر خارجہ جدعون ساعر سے ملاقات کے بعد کیا ۔
اتفاق سے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد غیر جانبداری اختیار کر لینے والے اسرائیل سے بھی یوکرین ایک فاصلے پر چلا گیا۔ اسی طرح جب اسرائیل نے غزہ میں جنگ چھیڑی تو یوکرین کی حیثیت یورپ و امریکہ کے لیے ثانوی سی ہوگئی اور اسلحے و امداد کے سارے منہ اسرائیل کے لیے کھل گئے۔ یوکرین کافی حد تک نطر انداز ہوتا رہا۔ اس سے بھی یوکرین کی اسرائیل کے ساتھ قربت میں کمی آگئی۔
اب 2023 کے بعد پہلی بار اعلیٰ سطح کا بالمشافہ رابطہ ہوا ہے۔ یوکرینی دورے پر آئے گیڈون سائر نے صدر زیلنسکی سے بھی ملاقات کی ہے۔ جس کے بعد زیلنسکی نے ' ایکس ' پر لکھا ہے ' دونوں ملکوں نے ہتھیاروں کی مشترکہ پیداوار کے موضوع پر بھی بات کی ہے۔'