ایرانی فوجی ہیلی کاپٹر اور امریکی بحری جہاز کا خلیج عمان میں آمنا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ ان کا سامنا خلیج عمان میں ایک امریکی بحری بیڑے سے ہوا ہے۔ ایرانی فورسز نے انتباہ کیا ہے کہ امریکی جہاز ایران کے پانیوں سے دور رہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دونوں ملکوں کے جہازوں کا آمنا سامنا 22 جون کو امریکہ کی طرف سے کیے گئے ایرانی جوہری تنصیبات ہر حملوں کے ایک ماہ کے بعد ہوا ہے۔

امریکہ نے ایران کی تین اہم تیرن جوہری تنصیابت کو اپنے بنکر بسٹر بموں سے نشانہ بنایا تھا اور ایک سے زائد بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ جوہری تنصیبات کو مکل طور پر تباہ کر دیا ہے اور ایران کئی سال تک اپنے جوہری پروگرام کو آگے نہیں بڑھا سکے گا۔ تاہم امریکی دعوے کو امریکہ کے اندر بھی چیلنج کیا جاتا ہے۔

ایران کے ریاستی ٹی وی نے کہا ہے کہ ایرانی فوجی ہیلی کاپٹر اپنے پانیوں پر پرواز کر رہے تھے جہاں انہوں نے امریکی 'ڈیسٹرائر' پر بدھ کے روز صبح 10 بجے کچھ دیر پرواز کی۔

دوسری جانب ڈیسٹرائر نے خبردار کیا کہ اسے اس سے خطرہ ہے ۔ تاہم جواباً ایرانی پائلٹ نے کہا کہ ایران کے پانیوں سے دور رہو۔ نیز امریکی ڈیسٹرائر کو کہا گیا کہ اپنا ارادہ بدلے اور دوسرے راستے پر جائے۔

امریکہ کی طرف سے فوری طور پر اس پر تبصرہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی امریکی نیوی نے اس بارے میں کوئی بیان جاری کیا ہے۔

یاد رہے ایرانی فورسز کا اپنے ان پانیوں میں امریکی فورسز کے ساتھ پہلے بھی گاہے گاہے ٹکراؤ ہو چکا ہے۔ جس طرح کہ خلیج عمان میں یہ تازہ واقعہ پیش آیا۔

2023 میں ایران نے کہا تھا کہ اس نے امریکی 'سبمیرین' کو جا لیا تھا جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر رہی تھی۔ جبکہ امریکہ اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں