گوگل:ترکیہ میں 10 ملین افراد کو 2023 کے زلزلے کی شدت سے خبردار کرنے میں ناکامی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

گوگل کمپنی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کا زلزلہ کا ابتدائی وارننگ سسٹم 2023 میں آنے والے ترکیہ کے تباہ کن زلزلے کے دوران لوگوں کو جس خطرے کا سامنا تھا اس کی شدت سے آگاہ کرنے میں ناکام رہا تھا۔ زلزلے کے مرکز سے 98 میل کے دائرے میں 10 ملین افراد کو گوگل کی جانب سے زلزلے کی اعلیٰ ترین وارننگ مل سکتی تھی جس سے انہیں محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنے کے لیے 35 سیکنڈ تک کا اضافی وقت مل سکتا تھا۔

اس کے بجائے برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق العربیہ بزنس نے دیکھا ہے کہ 7.8 شدت کے پہلے زلزلے کے لیے صرف ’’ ٹیک ایکشن‘‘ قسم کی وارننگ بھیجی گئی تھی ۔ گوگل نے بی بی سی کو بتایا کہ نصف ملین افراد کو کم خطرناک سطح کی وارننگ ملی جو "ہلکے جھٹکوں" کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے اور صارفین کو اتنی واضح طور پر آگاہ نہیں کرتی۔

اس سے قبل ٹیک کمپنی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 2023 میں کی گئی تحقیق کے بعد سسٹم نے "اچھی کارکردگی" کا مظاہرہ کیا تھا۔ زلزلہ کا ابتدائی وارننگ سسٹم 100 سے کم ممالک میں دستیاب ہے اور گوگل اسے "عالمی حفاظتی جال" قرار دیتا ہے جو اکثر ایسے ممالک میں کام کرتا ہے جہاں کوئی دوسرا وارننگ سسٹم موجود نہیں ہے۔

گوگل کا یہ سسٹم جسے "اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک الرٹس" (Android Earthquake Alerts) کہا جاتا ہے سلیکون ویلی کی کمپنی مخصوص ملکوں میں خود چلاتی ہے۔ یہ سسٹم اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر کام کرتا ہے جو ترکیہ میں 70 فیصد سے زیادہ فونز بناتے ہیں۔ 6 فروری 2023 کو جب دو شدید زلزلوں نے جنوب مشرقی ترکیہ کو ہلا کر رکھ دیا تو ان زلزلوں میں 55,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور 100,000 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ کئی لوگ ہولناک جھٹکوں کے وقت سو رہے تھے اور عمارتیں گر گئی تھیں۔ زلزلے کے دن گوگل کا ابتدائی وارننگ سسٹم فعال تھا اور کام کر رہا تھا تاہم اس نے زلزلوں کی شدت کو کم اندازہ لگایا تھا۔ گوگل کے ترجمان نے کہا کہ ہم ہر زلزلے سے جو کچھ سیکھتے ہیں اس کی بنیاد پر سسٹم کو بہتر بناتے رہتے ہیں۔

یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

گوگل کا سسٹم اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے بڑی تعداد میں موبائل فونز سے آنے والے ارتعاشات کا پتہ لگا سکتا ہے۔ چونکہ زلزلے نسبتاً آہستہ زمین پر سفر کرتے ہیں اس لیے یہ وارننگ بھیجنا ممکن بناتا ہے۔ زلزلے کے خطرے کی شدت کے لحاظ سے گوگل کی اعلیٰ ترین وارننگ ’’ ٹیک ایکشن‘‘ ہے جو صارف کے فون پر ایک زوردار الارم بجاتی ہے اور "ڈونٹ ڈسٹرب" کی سیٹنگ کو بھی بائی پاس کرتی ہے اور فون کی پوری سکرین کو ڈھک لیتی ہے۔ یہ وہ وارننگ ہے جسے صارفین کو اس وقت بھیجا جانا چاہیے جب ایک طاقتور ارتعاش کا پتہ چل جائے جو لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق کر سکتا ہے۔

" ٹیک ایکشن" وارننگ ترکیہ میں خاص طور پر اہم تھی کیونکہ تباہ کن جھٹکوں کی وجہ سے پہلا زلزلہ صبح 04:17 پر آیا، جب کئی صارفین سو رہے تھے۔ اعلیٰ سطح کی وارننگ اپنی بلند آواز کے ساتھ انہیں جگا سکتی تھی۔ زلزلے کے بعد کے مہینوں میں بی بی سی ان صارفین سے بات کرنا چاہتی تھی جنہوں نے اس ٹیکنالوجی کی ابتدائی تاثیر کو ظاہر کرنے کے مقصد سے یہ وارننگ وصول کی تھی۔

تاہم زلزلے سے متاثرہ علاقے کے قصبوں اور شہروں کے رہائشیوں سے بات کرنے کے باوجود بی بی سی کئی مہینوں تک کسی ایسے شخص کو تلاش نہیں کر سکی جس نے زلزلے سے پہلے اعلیٰ سطح کا " ٹیک ایکشن " الرٹ وصول کیا ہو۔ گوگل کے محققین نے جرنل سائنس میں ہونے والی غلطی کی تفصیلات لکھی ہیں جس میں "پتہ لگانے والے الگورتھم کی حدود" کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پہلے زلزلے میں گوگل کے سسٹم نے ارتعاش کی شدت کا اندازہ ریکٹر سکیل پر 4.5 اور 4.9 کے درمیان لگایا جبکہ حقیقت میں یہ 7.8 کی شدت کا زلزلہ تھا۔ سسٹم نے اسی دن بعد میں آنے والے دوسرے بڑے زلزلے کا بھی کم اندازہ لگایا تھا جہاں اس بار سسٹم نے 8,158 فونز کو "ٹیک ایکشن" الرٹس اور تقریباً چار ملین صارفین کو ہلکے جھٹکے کا الرٹ بھیجا تھا۔

زلزلے کے بعد گوگل کے محققین نے الگورتھم کو تبدیل کیا اور پہلے زلزلے کو دوبارہ سمیولیٹ کیا۔ اس مرتبہ سسٹم نے سب سے زیادہ خطرے میں موجود افراد کو 10 ملین "ٹیک ایکشن " وارننگز اور زلزلے کے مرکز سے دور رہنے والوں کو 67 ملین ہلکے جھٹکے کے الرٹس جاری کیے۔ گوگل نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر زلزلے کا ابتدائی وارننگ سسٹم اسی چیلنج کا سامنا کرتا ہے ۔ بڑے شدت کے واقعات کے لیے الگورتھم کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم قومی زلزلہ کے ابتدائی وارننگ سسٹمز کا تکمیلی ہونا چاہیے نہ کہ متبادل۔ تاہم کچھ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ بہت سے ممالک ایسی ٹیکنالوجیز پر بہت زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں جن کی مکمل جانچ نہیں کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں