رواں ماہ کے شروع میں حوثیوں کے ہاتھوں تباہ کیے گئے بحری جہازوں کے مالک نے یمنی حوثیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے عملے کو رہا کر دیا جائے۔ یہ مطالبہ منگل کے روز سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل اسی مالک نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ عملے کے ارکان کی رہائی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
جن جہازوں کو حوثیوں نے حملے کر کے رواں ماہ کے دوران سمندر میں ڈبو دیا تھا۔ ان میں اٹرنٹی سی بھی شامل تھا۔
تاہم حوثیوں نے دعوی کیا تھا کہ اس جہاز کے عملے کو بچالیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسی ماہ کے شروع میں حوثیوں نے 'میجک سی' نامی جہاز کو بھی حملہ کر کے ڈبو دیا تھا۔
حوثیوں نے بحیرہ احمر میں نومبر 2023 سے غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے جہازوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔
تب سے ایک طرف حوثیوں کے حملے جاری ہیں اور دوسری جانب اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور دیگر اتحادی ملک یمنی حوثیوں کو یمن میں نشانہ بنانے کے لیے یمنی تنصیبات اور یمنی فوجی مراکز کو بمباری کا ہدف بنا رہے ہیں۔ تاہم حوثیوں نے ان کارروائیوں کو روکا نہیں ہے۔
اٹرنٹی سی کمپنی کے مالک نے اپنے بیان میں تمام گروپوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عملے کے گیارہ ارکان کو رہا کرایا جائے۔ یاد رہے اٹرنٹی سی کے جہاز کا نام کاسمو بتایا گیا ہے۔
یورپی یونین کے جہاز رانی سے متعلق شعبے نے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ جہاز پر 25 ارکان پر مشتمل عملہ تھا۔ جس میں سے اب بھی 15 لاپتہ ہیں۔ جن میں چار کی ہلاکت کا خدشہ زیادہ ہے۔
البتہ پیر کے روز حوثیوں نے دو الگ جہازوں کی فوٹیج جاری کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عملے کے 11 ارکان کو بچا لیا ہے۔ تاہم ان میں دو زخمی ہیں۔
اس اعلان کے اگلے روز جہاز کے مالک نے مطالبہ کیا ہے عملے کے ان ارکان کو رہا کیا جائے۔
انہوں نے کہا ہے ہماری انتہائی کوشش ہے کہ عملے کے ارکان گھروں کو واپس پہنچیں اور ان کے خاندانوں کو ریلیف ملے۔