کیا فلسطین اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کر سکتا ہے؟

برطانیہ اور فرانس کی حمایت کے بعد فلسطینی ریاست کو عالمی سطح پر مزید تسلیم کیے جانے کے امکانات روشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے امکانات نے اس وقت نیا زور پکڑا جب فرانس نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا کہ وہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، جس سے مزید ممالک بھی اس کی پیروی کر سکتے ہیں۔

منگل کے روز برطانیہ نے بھی اعلان کیا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جاری بحران کو کم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کرے تو وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

فی الحال اقوام متحدہ میں فلسطینی اتھارٹی، جو فلسطینی عوام کی نمائندگی کرتی ہے، مکمل رکن نہیں بلکہ ایک "غیر رکن مبصر ریاست" کے طور پر موجود ہے۔ اس وفد کو رسمی طور پر "ریاستِ فلسطین" کہا جاتا ہے، تاہم اسے جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں۔

فلسطین کا اقوام متحدہ میں موجودہ مقام

نومبر 2012ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو "مبصر" سے بڑھا کر "غیر رکن ریاست" کا درجہ دیا، جس کے حق میں 138 ممالک نے ووٹ دیا، صرف 9 نے مخالفت کی، جب کہ 41 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

گزشتہ سال کیا پیش رفت ہوئی؟

مئی 2024ء میں جنرل اسمبلی نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے اہل قرار دے کر ایک بڑی پیش رفت کی اور سلامتی کونسل سے اس پر مثبت غور کی سفارش کی۔
اسی قرارداد کے تحت ستمبر 2024ء سے فلسطین کو کچھ اضافی حقوق بھی دیے گئے، جن میں جنرل اسمبلی کے ہال میں رکن ممالک کے درمیان نشست بھی شامل ہے۔

یہ قرارداد دراصل عالمی برادری کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم امتحان تھی، خصوصاً اس وقت جب اپریل میں امریکہ نے سلامتی کونسل میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے خلاف ویٹو استعمال کیا۔

اقوام متحدہ میں رکنیت کا طریقہ کار

نئی رکنیت کی خواہشمند ریاست پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو درخواست دیتی ہے، جو یہ معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجتے ہیں۔
پھر ایک کمیٹی اس درخواست کا جائزہ لیتی ہے۔ اگر کم از کم نو ممالک درخواست کی حمایت کریں اور مستقل اراکین (امریکا، روس، چین، فرانس، برطانیہ) میں سے کوئی ویٹو نہ کرے تو معاملہ جنرل اسمبلی میں جاتا ہے، جہاں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ میں شمولیت کے لیے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی دونوں کی منظوری لازمی ہے۔

2011ء کی درخواست کا کیا ہوا؟

فلسطینی ریاست کی درخواست 2011ء میں سلامتی کونسل کے پاس پہنچی، لیکن کئی ہفتوں کی جانچ کے بعد بھی کمیٹی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق فلسطین کو ضروری نو ووٹ بھی حاصل نہ تھے اور اگر ہوتے بھی تو امریکہ نے واضح کیا تھا کہ وہ ویٹو استعمال کرے گا۔

امریکہ کا مؤقف

امریکہ جو اسرائیل کا سب سے قریبی اور طاقتور اتحادی ہے، مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ فلسطینی ریاست صرف براہِ راست اسرائیل-فلسطین مذاکرات سے ہی قائم ہو سکتی ہے۔
یہ مذاکرات 2014ء میں ناکام ہو چکے تھے اور فی الحال غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ نے ان کے دوبارہ آغاز کی امیدیں بھی ماند کر دی ہیں۔

امریکی قانون کے مطابق، واشنگٹن کسی ایسی اقوام متحدہ کی تنظیم کو مالی امداد نہیں دے سکتا جو ایسی جماعت کو مکمل رکنیت دے جو بین الاقوامی سطح پر "ریاست" کے طور پر تسلیم شدہ نہ ہو۔

اسی قانون کے تحت امریکا نے 2011 میں یونیسکو کی فنڈنگ روک دی تھی جب فلسطین اس تنظیم کا مکمل رکن بن گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں