امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدویدیف کی دھمکیوں کے جواب میں روس کے قریب جوہری آبدوزیں تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے "نیوز میکس" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ تیار رہنا چاہتے ہیں۔ اس لیے میں نے دو جوہری آبدوزیں علاقے میں بھیجی ہیں۔ میں صرف یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ان کے الفاظ محض الفاظ ہیں۔ امریکی آبدوزوں کے بارے میں بات کریں تو امریکی بحریہ کے پاس تین قسم کی آبدوزیں ہیں اور وہ سب جوہری توانائی سے چلتی ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک قسم کی آبدوز جوہری ہتھیار لے جاتی ہے۔
بیلسٹک میزائل آبدوزیں
امریکی بحریہ کے پاس 14 "اوہائیو" کلاس بیلسٹک میزائل آبدوزیں (SSBNs) ہیں جو عام طور پر "بومرز" کہلاتی ہیں۔ امریکی بحریہ کے مطابق یہ آبدوزیں خاص طور پر انتہائی پوشیدہ اور جوہری وار ہیڈز کی درست ترسیل کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ اس قسم کی آبدوزیں امریکی جوہری روک تھام کی تثلیث کا ایک ستون سمجھی جاتی ہیں جس میں زمینی میزائل اور بمبار طیارے بھی شامل ہیں۔
اس قسم کی ہر آبدوز 20 "ٹرائیڈنٹ" بیلسٹک میزائل لے جا سکتی ہے اور ہر میزائل کئی جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ٹرائیڈنٹ میزائلوں کی حد تقریباً 7,400 کلومیٹر تک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں روس پر حملہ کرنے کے لیے اس کے قریب جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اٹلانٹک، بحر الکاہل، بحر ہند یا یہاں تک کہ بحر آرکٹک سے بھی ایسا کر سکتی ہیں۔ یہ صلاحیت انہیں جوہری روک تھام میں ایک انتہائی موثر سٹریٹجک ہتھیار بناتی ہے کیونکہ وہ دور دراز اور غیر ظاہر شدہ مقامات سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اسی طرح بیلسٹک میزائل آبدوزیں (SSBNs) ایک مضبوط جوہری روک تھام ہیں کیونکہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دشمن کے پہلے حملے کے بعد بھی زندہ رہیں گی۔ اسی وجہ سے ان آبدوزوں کی نقل و حرکت امریکی بحریہ کے سب سے بڑے رازوں میں سے ہے۔ اوہائیو کلاس آبدوزوں کی لمبائی تقریباً 170 میٹر ہے۔ پانی کے اندر ان کا وزن تقریباً 19,000 ٹن ہے۔ ہر آبدوز پر 159 افراد کا عملہ ہوتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً تقریباً 37 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
گائیڈڈ میزائل آبدوزیں
1990 کی دہائی میں پینٹاگون نے فیصلہ کیا تھا کہ بحریہ کو جوہری روک تھام کے کردار میں بہت زیادہ "اوہائیو" (SSBN) آبدوزوں کی ضرورت نہیں ہے لہذا انہوں نے ان میں سے چار کو گائیڈڈ میزائل آبدوزوں (SSGN) میں تبدیل کر دیا۔ گائیڈڈ میزائل آبدوزیں بیلسٹک میزائل آبدوزوں (بومرز) جیسی ہی عمومی خصوصیات رکھتی ہیں لیکن وہ ٹرائیڈنٹ بیلسٹک میزائلوں کے بجائے "توماہاک" کروز میزائل لے جاتی ہیں۔ ان میں سے ہر آبدوز 154 توماہاک میزائل لے جا سکتی ہے جس میں 1000 پاؤنڈ تک وزنی طاقتور وار ہیڈز ہوتے ہیں ان میزائلوں کی حد تقریباً 1000 میل ہے۔
امریکی بحریہ کے مطابق یہ آبدوزیں خصوصی خارجی کمروں کے ذریعے خفیہ طور پر فوجیوں کو بھی لے جا سکتی ہیں جو سابقہ بیلسٹک میزائل ٹیوبوں میں موجود ہیں۔ SSGNs کی نقل و حرکت بھی انتہائی خفیہ ہوتی ہے لیکن حالیہ برسوں میں بحریہ نے کبھی کبھی فوجی تناؤ کے علاقوں کے قریب ان کی موجودگی کا بتایا ہے جو ایک روک تھام کا پیغام ہے۔
فوری حملہ کرنے والی آبدوزیں
یہ آبدوزیں امریکی بحری بیڑے کا سب سے بڑا حصہ بناتی ہیں اور انہیں ٹارپیڈو کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کی آبدوزوں اور سطحی جہازوں کو تلاش کرنے اور تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ وہ توماہاک میزائلوں سے زمینی اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں ۔ یہ آبدوزیں SSGNs کے مقابلے میں کم تعداد میں یہ میزائل لے جاتی ہیں۔ فوری حملہ کرنے والی آبدوزیں تین اقسام میں دستیاب ہیں، ورجینیا، لاس اینجلس اور سی ولف کلاس کی آبدوز۔
ورجینیا کلاس سب سے نئی ہے 1 جولائی تک ان میں سے 23 آبدوزیں کمیشن کی گئی ہیں۔ ترتیب کے لحاظ سے ان کی لمبائی 377 سے 461 فٹ کے درمیان ہوتی ہے اور ان کا وزن 10,200 ٹن تک ہوتا ہے۔ ان پر عملے کی تعداد 145 ہوتی ہے۔ لاس اینجلس کلاس بحریہ کی سب سے پرانی فوری حملہ کرنے والی آبدوزیں ہیں اور 23 آبدوزیں اب بھی خدمت میں ہیں۔ ان کی لمبائی 360 فٹ ہے اور وزن 6,900 ٹن ہے۔ ان آبدوزوں پر عملے کی تعداد 143 ہے۔ سی ولف کلاس امریکی بیڑے میں سب سے چھوٹی ہیں۔ یہ دو آبدوزیں ہیں۔ ان کے نام یو ایس ایس سی وولف اور یو ایس ایس کنیکٹیکٹ ہیں ۔ یہ 353 فٹ لمبی ہیں اور پانی کے اندر ان کا وزن تقریباً 9,100 ٹن ہے۔ یہ دونوں آبدوزیں معیاری حملہ کرنے والی آبدوزوں سے زیادہ ملتی جلتی ہیں کیونکہ یہ ٹارپیڈو اور کروز میزائل لے جاتی ہیں۔ سی ولف کلاس کی تیسری آبدوز یو ایس ایس جمی کارٹر ہے۔ یہ بحریہ کے سب سے خصوصی آبدوزوں میں سے ایک ہے۔ اس کے ڈھانچے کو دیگر دو آبدوزوں کے مقابلے میں 100 فٹ لمبا کیا گیا ہے۔
امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ ڈھانچے کا یہ بڑھا ہوا حصہ خفیہ تحقیق اور ترقی کے لیے استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اضافی بوجھ فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی جنگی صلاحیتوں کو بھی بڑھاتا ہے۔