انڈونیشیا میں جزیرے پر طبی سہولت کی تیاری، غزہ کے 2000 زخمیوں کا علاج ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جمعرات کو ایک صدارتی ترجمان نے کہا کہ انڈونیشیا غزہ کے تقریباً 2,000 زخمی باشندوں کے علاج کے لیے اپنے جزیرے گالنگ کو ایک طبی سہولت میں تبدیل کر دے گا جو اس وقت غیر آباد ہے۔

اکتوبر 2023 میں اسرائیلی جارحیت شروع ہونے کے بعد مسلم اکثریتی انڈونیشیا نے غزہ کے لیے انسانی امداد بھیجی ہے۔

ترجمان حسن نصبی نے نامہ نگاروں کو بتایا، "انڈونیشیا غزہ کے تقریباً 2000 رہائشیوں کو طبی امداد فراہم کرے گا جو جنگ کا شکار ہوئے، زخمی ہوئے اور ملبے تلے دب گئے"۔

انہوں نے مزید کہا، انڈونیشیا اپنے جزیرے سماٹرا سے دور اور سنگاپور کے جنوب میں واقع گالنگ جزیرے پر یہ سہولت مختص کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ غزہ کے زخمیوں کے علاج اور ان کے خاندانوں کو عارضی طور پر پناہ دی جائے۔ اب اس کے قریب کوئی نہیں رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد واپس غزہ لے جایا جائے گا۔

حسن نے سوالات کو انڈونیشیا کی خارجہ اور دفاع کی وزارتوں کی طرف بھیجتے ہوئے کوئی مقررہ وقت یا مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

یہ منصوبہ صدر پرابوو سوبیانتو کی جانب سے زخمی فلسطینیوں کو پناہ دینے کی پیشکش کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے جسے انڈونیشیا کے اعلیٰ علماء نے یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا کہ یہ امریکی صدر ٹرمپ کی فلسطینیوں کو مستقلاً غزہ سے نکالنے کی تجویز کے بہت قریب لگتا تھا۔

انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ جو شرقِ اوسط کے بحران کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے، نے اس وقت ٹرمپ کی تجویز کے جواب میں کہا تھا، وہ فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔

کووڈ-19 وبائی مرض سے متأثرہ افراد کے علاج کے لیے ایک ہسپتال 2020 میں گالانگ جزیرے پر کھولا گیا جو 1996 تک اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام ایک وسیع و عریض پناہ گزین کیمپ تھا۔ یہاں ویتنام کی جنگ سے بھاگنے والے 250,000 افراد رہائش پذیر تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں