میانمار کی فوجی حکومت کے تحت کام کرنے والے صدر کا انتقال، سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ریاستی نشریاتی ادارے نے جمعرات کو بتایا کہ میانمار کے صدر مائینٹ سوئی طبی رخصت پر جانے کے ایک سال بعد انتقال کر گئے ہیں۔ انہوں نے 2021 میں ایک منتخب سویلین حکومت کے خلاف بغاوت کر کے میانمار کی صدارت حاصل کی اور اور اقتدار فوری طور پر فوج کو سونپ دیا تھا۔

سرکاری ایم آر ٹی وی نے بتایا کہ 74 سالہ سابق جنرل جمعرات کی صبح ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

بغاوت کے دوران اقتدار میں آنے والے ون مائینٹ کی نوبل انعام یافتہ اور ڈی فیکٹو لیڈر آنگ سان سوچی کے ہمراہ گرفتاری کے بعد وہ برائے نام صدر رہ گئے تھے۔ تب سے وہ دونوں حراست میں ہیں۔

میانمار اس وقت سے افراتفری کا شکار ہے جب بغاوت کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشیائی ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا جبکہ فوج بغاوت پر قابو پانے کے لیے لڑ رہی ہے اور اس پر وسیع پیمانے پر مظالم کا الزامات ہیں جن کی وہ تردید کرتی ہے۔

مائینٹ سوئی نے صدر بننے سے پہلے میانمار کے نیم شہری نظام کے تحت نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

فوجی حکومت نے اپنے فرامین پر دستخط کرنے اور اپنی حکمرانی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ان پر انحصار کیا تھا۔

انہیں گذشتہ سال جولائی میں طبی رخصت پر رکھا گیا تھا جس کے بعد ان کی ذمہ داریاں فوجی حکومت کے سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر من آنگ ہلینگ کو سونپ دی گئی تھیں۔

اس سال کے آخر میں طے شدہ انتخابات سے قبل فوج نے گذشتہ ہفتے اقتدار سویلین کے زیرِ قیادت ایک عبوری حکومت کو برائے نام منتقل کر دیا جس میں فوجی سربراہ قائم مقام صدر کے طور پر اپنے دوسرے کردار میں جنگ زدہ ملک کے سربراہ رہیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں