نئے ٹیرف نافذ ہونے سے امریکہ میں "اربوں ڈالر" آ رہے ہیں : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکہ نے جمعرات کو درجنوں ممالک کی اشیا پر نئے محصولات لگانا شروع کر دیے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بین الاقوامی تجارت کی تشکیل نو کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے دستخط کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے نفاذ کے ساتھ متعدد تجارتی شراکت داروں کی مصنوعات پر امریکی محصولات 10 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد اور 41 فیصد کے درمیان ہو گئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ نئے ٹیرف کے نافذ ہونے کے بعد "اربوں ڈالر" امریکہ میں بہہ رہے ہیں۔

انہوں نے "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ یہ آدھی رات ہے (مقامی وقت کے مطابق)!! اربوں ڈالر کے ٹیرف اب ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بہہ رہے ہیں۔ یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسی معیشتوں کی بہت سی مصنوعات کو اب 15 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے دھمکی کے بعد بڑی اضافے سے بچنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے باوجود یہ ٹیرف لگایا گیا۔ ہندوستان جیسے دیگر ملکوں کو 25 فیصد کے ٹیرف کا سامنا ہے۔ یہ ٹیرف تین ہفتوں کے اندر دوگنا ہو جائے گا۔ شام، میانمار اور لاؤس جیسے ملکوں کو 41 فیصد تک ٹیرف کا سامنا ہے۔

غیر منصفانہ طرز عمل؟

ان تازہ ترین محصولات کا مقصد تجارتی طریقوں کو درست کرنا ہے جنہیں واشنگٹن غیر منصفانہ سمجھتا ہے اور یہ ٹرمپ کے جنوری میں وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے عائد کردہ اقدامات کی توسیع کا حصہ ہیں۔ تاہم یہ نئے ٹیرف خاص فہرستوں کے تحت مخصوص شعبوں سے درآمدات پر لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ ان میں سٹیل، آٹوموبائل، فارماسیوٹیکل اور چپس کے شبعے شامل ہیں۔

ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ سیمی کنڈکٹرز پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں ، تائیوان نے تصدیق کی کہ چپ کی صنعت TSMC اس کی امریکہ میں قائم فیکٹریوں کی وجہ سے مستثنیٰ ہوگی۔ تاہم کمپنیوں اور صنعتی گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ نئے محصولات سے چھوٹے امریکی کاروباروں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اقتصادی ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ نئے ٹیرف مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں اور طویل مدتی ترقی پر وزن ڈال سکتے ہیں۔

کچھ ممالک سے درآمدات پر محصولات کے مستحکم ہونے کے ساتھ کم از کم ابھی کے لیے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر مارک بش نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی کمپنیاں ممکنہ طور پر زیادہ لاگت صارفین تک پہنچائیں گی۔ انہوں نے ایجنسی فرانس پریس کو بتایا کہ ماضی میں ان محصولات کی 90 دن کی معطلی نے درآمد کنندگان کو سامان ذخیرہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم انتظار کرو اور دیکھو کی حکمت عملی نے ابتدائی طور پر کمپنیوں کو ٹیرف کا زیادہ بوجھ برداشت کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا انوینٹریز کم ہو رہی ہیں اور کمپنیوں کی جانب سے اس سلسلے کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا امکان نہیں ہے۔ بین الاقوامی تجارتی ماہر نے مزید کہا کہ بیک ٹو سکول شاپنگ سیزن صرف ہفتوں کے فاصلے پر ہے۔ اس کی سیاسی اہمیت ہوگی۔

تفصیلات میں ایک بحران

نئے ٹیرف کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جمعرات کو لاگو ہوا ہے۔ اس سے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر بات چیت کرنے والے بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے بہت سے سوالات کا جواب نہیں ملا ہے۔ مثال کے طور پر ٹوکیو اور واشنگٹن اپنے ٹیرف معاہدے کی کلیدی تفصیلات پر اختلافات کا شکار نظر آتے ہیں۔ درآمد شدہ جاپانی کاروں پر ٹیرف کب کم کیے جائیں گے۔ واشنگٹن نے ابھی تک جاپان، یورپی یونین اور جنوبی کوریا کے لیے آٹو ٹیرف کو کم کرنے کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔ یہ فی الحال صنعت کے مخصوص نفاذ کے حکم کے تحت آٹوز پر 25 فیصد ٹیرف لگا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ جاپانی درآمدات پر 15 فیصد ٹیرف موجودہ ٹیرف میں شامل کیا جائے گا حالانکہ ٹوکیو کو رعایتوں کی توقع ہے۔

نئے محاذ

نئے ٹیرف کے ساتھ، ٹرمپ اپنی تجارتی جنگ جاری رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے بدھ کے روز ایک نیا محاذ کھولا جب انہوں نے یوکرین جنگ کے باعث مغربی پابندیوں کے باوجود نئی دہلی کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کے پس منظر میں بھارتی اشیاء پر محصولات کو دوگنا کرکے 50 فیصد کرنے کا اعلان کردیا۔ تاہم اضافی 25 فیصد ٹیرف تین ہفتوں کے اندر نافذ کیا جائے گا۔

ہندوستان پر نئے محصولات کے متوازی طور پر ٹرمپ نے دوسرے ملکو پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی جو روسی تیل کو "براہ راست یا بالواسطہ" درآمد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیل درآمد کی آمدنی یوکرین میں ماسکو کی جنگی کوششوں کے لیے فنڈنگ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

کچھ استثنیٰ نافذ العمل ہے

اپنی تجارتی جنگ کے ایک حصے کے طور پر ٹرمپ نے اپنے دائیں بازو کے اتحادی سابق صدر جیر بولسونارو کے مقدمے پر برازیل کو نشانہ بنایا جن پر بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ بدھ کے روز مختلف برازیلی اشیا پر امریکی محصولات 10 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد ہو گئے لیکن اس کے ساتھ اورنج جوس اور شہری ہوا بازی کے شعبے کو بھی وسیع چھوٹ دی گئی۔ تاہم ٹیرف اہم مصنوعات جیسے کافی، گوشت اور چینی کو متاثر کر رہے ہیں۔

ہنگامی اقتصادی اختیارات کے استعمال کی وجہ سے ٹرمپ کے بہت سے بڑے تجارتی محصولات کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہے اور امکان ہے کہ وہ بالآخر امریکی سپریم کورٹ تک پہنچ جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں