جنگ کے کچھ حمایتی جمعہ کو خوش نہیں ہوں گے: ایلچی روسی صدر
پوتین اور ٹرمپ کے درمیان مکالمہ عالمی امن و سلامتی لائے گا: کیرل دمتریف
روسی صدر ولادیمیر پوتین کے خصوصی ایلچی کیرل دیمتریف نے ان بعض لوگوں کا مذاق اڑایا ہے جو 15 اگست کو الاسکا میں کریملن کے سربراہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی متوقع ملاقات پر ناراض ہیں۔ روسی ایوان صدر کے مشیر کیرل دیمتریف نے آج پیر کو "ایکس" پر لکھا کہ نئے محافظین اور جنگ کے دیگر حمایتی 15 اگست 2025 کو خوش نہیں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پوتین اور ٹرمپ کے درمیان مکالمہ عالمی امن اور سلامتی لائے گا۔
Neocons and other warmongers won’t be smiling on Aug 15, 2025. Putin-Trump dialogue will bring hope, peace and global security. 🕊️
— Kirill A. Dmitriev (@kadmitriev) August 10, 2025
کیف کی حمایت میں یورپی مؤقف
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ آج پیر کو ایک ویڈیو کانفرنس میں اگلے اقدامات پر بات چیت کرنے والے ہیں۔ اس بات چیت میں یوکرینی وزیر خارجہ بھی شریک ہوں گے۔ کل یورپی رہنماؤں نے امریکہ اور روس کے درمیان مذاکرات میں یوکرین کو شامل کرنے پر زور دیا تھا جو الاسکا میں پوتین اور ٹرمپ کے درمیان متوقع سربراہی اجلاس سے قبل منعقد ہو رہے ہیں تاکہ تین سال سے زائد عرصے سے جاری تنازع کا حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ کیف کو ان مذاکرات کا حصہ ہونا چاہیے اور کسی بھی معاہدے میں یورپی طاقتوں کی شرکت ضروری ہے۔
چار علاقے
واضح رہے کہ ماسکو کا مطالبہ ہے کہ کیف رسمی طور پر ان چار علاقوں سے دستبردار ہو جائے جن پر روسی فوج نے جزوی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ چار علاقے ڈونیٹسک، لوہانسک، زاپوریژیا اور خیرسون ہیں۔ اسی طرح ان علاقوں میں یوکرین کا کریمیا جزیرہ نما بھی شامل ہے جسے کریملن ے 2014 میں یکطرفہ فیصلے سے ضم کر لیا تھا۔
اس کے علاوہ ماسکو کی شرط ہے کہ یوکرین مغربی ہتھیاروں کی وصولی بند کرے اور نیٹو میں شامل ہونے کی اپنی خواہشات کو ترک کردے۔ اس کے برعکس کیف ان شرائط کو ناقابل قبول سمجھتا ہے اور روسی افواج کے انخلاء اور مغربی سیکورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کرتا ہے جن میں ہتھیاروں کی مسلسل وصولی اور اس کی سرزمین پر ایک یورپی بٹالین کی تعیناتی شامل ہے۔ تاہم یوکرین اور یورپی دونوں ممالک یہ تسلیم کرتے ہیں کہ روس کے قبضے والے علاقوں کو لڑائی کے ذریعے نہیں بلکہ سفارتی ذرائع سے ہی واپس حاصل کیا جا سکتا ہے۔