امریکہ نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ بھارت پر مزید ٹیرف عائد کرےگا۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ نے بھارت پر پہلے ہی اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کیے ہیں، جو مزید بڑھائے جا سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف پہلے ہی لگایا جا چکا ہے، جبکہ روس سے پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی پاداش میں اگلے چند دنوں میں اضافی 25 فیصد ٹیرف کا اطلاق بھی ہو جائے گا، جس کے بعد بھارت کو کل 50 فیصد ٹیرف کا سامنا ہو گا۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اگر ٹرمپ اور پوتن کے مذاکرات ناکام ہوئے تو بھارت پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد سے بھی زیادہ ہو جائےگا۔
سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ بھارت پر مزید اضافی ٹیرف کا انحصار ٹرمپ اور پوتن مذاکرات کے نتائج پر ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات جمعہ کو الاسکا میں ہو گی، جو 2021 کے بعد موجودہ امریکی اور روسی صدور کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات ہو گی۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ جمعے کے روز روسی ہم منصب کے ساتھ الاسکا میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے فوراً بعد ایک دوسری ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس ملاقات میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی شامل ہوں، تاہم یہ ملاقات اسی وقت ہو گی جب تمام فریقین اس پر آمادہ ہوں گے۔