شامی وزارتِ دفاع کے شعبہ اطلاعات و ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ "گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران سابق حکومت کی باقیات کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں لاذقیہ اور طرطوس کے دیہی علاقوں میں فوجی دستوں کو نشانہ بنایا گیا"۔
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب جاری کیے گئے بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ "باقیات کی بعض ٹولیوں نے لاذقیہ کے دیہی علاقے میں فوج کی ایک گاڑی پر حملہ کیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔"
شامی وزارتِ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ "عوام کے تمام طبقات کے تحفظ اور قومی ہم آہنگی کو قائم رکھنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔"
اس کے ساتھ ہی وزارت نے ان افراد کو، جنھیں اس نے "سابق حکومت کی باقیات" قرار دیا، خبردار کیا کہ وہ شامی ساحلی علاقے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔ وزارت نے واضح کیا کہ فوج یا عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے کسی بھی اقدام پر نرمی نہیں برتی جائے گی۔
یاد رہے کہ ساحلی علاقے (لاذقیہ، طرطوس اور بانیاس) میں چھ مارچ کو پر تشدد واقعات اور خون ریز جھڑپیں ہوئی تھیں، جن میں عام شہریوں اور عام سیکیورٹی فورسز کے اہل کار متاثر ہوئے تھے۔ حکومت نے ان حملوں کی ذمے داری سابق صدر بشار الاسد کے حامی مسلح عناصر پر عائد کی تھی۔ ان افراد پر فوجی اہل کاروں پر حملے اور ان میں سے درجنوں کو پھانسی دینے کا الزام ہے، جبکہ بعض سیکیورٹی اہل کاروں پر عام شہریوں کے مقابل خلاف ورزیوں اور گھروں کو جلانے اور لوٹنے کے الزامات لگے تھے۔
اسی ماہ (مارچ) شامی حکام نے ان واقعات اور پر تشدد کارروائیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے گزشتہ جولائی میں نتیجہ اخذ کیا کہ 563 مشتبہ افراد اس میں ملوث ہیں اور ان کے نام تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے لیے بھیج دیے گئے۔