امریکی محکمہ خارجہ نے غزہ سے آنے والے فلسطینیوں کے لیے مختصر دورانیے کے سیاحتی ویزے روکنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر امریکہ میں قائم فلاحی تنظیم HEAL Palestine اور انسانی حقوق کے دیگر گروپوں نے پر تنقید کی اور کہا ہے کہ اس سے ان زخمی بچوں کو نقصان ہو گا جو مختصر مدت کے امریکی ویزوں پر علاج کے خواہاں ہیں۔
دائیں بازو کی سازشی نظریہ ساز لورا لومر نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزین امریکہ میں داخل ہو رہے تھے جس کے بعد محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ غزہ کے شہریوں کے لیے تمام سیاحتی ویزے روک دے گی جبکہ اس دوران حالات کا "مکمل" جائزہ لیا جائے گا۔
ہیل فلسطین نے کہا کہ لومر کے بیان کے مطابق پناہ گزینوں کی آباد کاری کا کوئی پروگرام نہیں تھا اور گروپ کی کوششیں طبی علاج کے پروگرام کا حصہ تھیں۔ اس نے یہ بھی کہا، یہ پروگرام عطیات سے چلایا جاتا ہے اور اس میں امریکی حکومت کا پیسہ استعمال نہیں کیا گیا تھا۔
نیز ادارے نے کہا، "شدید زخمی بچوں کو جو ضروری طبی علاج ان کے اپنے ملک میں دستیاب نہیں"، وہ اس کے لیے انہیں عارضی ویزا پر امریکہ لایا اور انہیں مالی معاونت فراہم کی۔ علاج مکمل ہونے کے بعد بچے اور ان کے ساتھ آنے والے افرادِ خانہ شرقِ اوسط واپس چلے جاتے ہیں۔"
امریکہ نے 2025 میں اب تک فلسطینی اتھارٹی کے سفری دستاویزات رکھنے والوں کو 3,800 سے زیادہ بی ون/بی ٹو سیاحتی ویزے جاری کیے ہیں جن پر غیر ملکیوں کو امریکہ میں طبی علاج کروانے کی اجازت ہے۔ اس تعداد میں مئی میں جاری کردہ 640 ویزے بھی شامل ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے اور غزہ کے رہائشیوں کو سفری دستاویزات جاری کرتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں غزہ کے لوگوں کو عارضی طبی-انسانی ہمدردی کے ویزوں کی ایک مختصر تعداد جاری کی گئی لیکن کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور فلسطین چلڈرن ریلیف فنڈ نے ویزے روکنے کے فیصلے کی مذمت کی۔
لومر نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انہوں نے سکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے اس بارے میں خبردار کرنے کے لیے بات کی جو ان کے نزدیک "اسلامی حملہ آوروں" سے لاحق خطرہ ہے۔
روبیو نے کہا، کانگریس کے بعض ارکان کی طرف سے انتہا پسندی سے مبینہ تعلق کے بارے میں خدشات ظاہر کرنے کے بعد حکومت ایسے ویزے دینے کے عمل کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دفاتر نے ایسے تعلقات کے ثبوت پیش کیے لیکن انہوں نے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔