لاس ویگاس میں جنسی جرائم کے ملزم اسرائیلی اہلکار کے ساتھ کوئی خصوصی سلوک نہیں کیا گیا، یہ بات اس کیس کے انچارج پراسیکیوٹر نے منگل کو مقامی میڈیا کو بتائی۔ مذکورہ سائبر سیکیورٹی افسر کو لاس ویگاس کی پولیس نے حال ہی میں ایک نابالغ سے جنسی تعلقات استوار کرنے کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔
لاس ویگاس میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے 15 اگست کے ایک بیان کے مطابق اسرائیلی حکومت کے سائبر سکیورٹی کے ایک اعلیٰ اہلکار ٹام آرٹیوم الیگزینڈرووچ ان آٹھ افراد میں سے ایک تھے جنہیں نیواڈا کے اور وفاقی حکام نے کئی ہفتوں کی کارروائی کے بعد گرفتار کیا گیا۔ یہ کارروائی "بچوں کے جنسی شکاریوں" کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں کی گئی۔
کلارک کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی سٹیو وولفسن جن کے دفتر کا لاس ویگاس اور ہینڈرسن پر اختیار ہے، نے منگل کو لاس ویگاس ریویو جرنل کے تبصروں میں صورتِ حال کو "معیاری" قرار دیا۔
رائٹرز کا وولفسن یا ان کے دفتر کے کسی نمائندے سے رابطہ نہ ہو سکا لیکن اخبار کو انٹرویو میں انہوں نے کہا، "اس الزام کے لیے معیاری ضمانت 10,000 ڈالر تھی اس لیے کوئی بھی اس کیس میں مقدمہ درج ہونے پر یہ ضمانت کروا کر بغیر کسی شرط کے رہا ہو سکتا ہے اور اس کیس میں ایسا ہی ہوا۔"
وولفسن کے تبصرے ان قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آئے ہیں کہ چھے اگست کو گرفتار ہونے کے بعد الیگزینڈرووچ کی امریکہ سے روانگی میں امریکی یا اسرائیلی حکومتوں نے مداخلت کی تھی۔
پولیس کے 15 اگست کے بیان کے مطابق الیگزینڈرووچ پر تاحال کسی جرم کا باضابطہ الزام نہیں لگایا گیا ہے لیکن انہیں کمپیوٹر کے ذریعے ایک بچے کو جنسی تعلقات کے لیے راغب کرنے کے ممکنہ سنگین الزام کا سامنا ہے۔
عدالتی دستاویز کے مطابق 38 سالہ الیگزینڈرووچ نے اپنی گرفتاری کے اگلے دن اور جج سے ملنے سے پہلے 10,000 ڈالر کا ضمانتی بانڈ پوسٹ کیا۔ اسرائیلی میڈیا نے ان کی شناخت اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ میں ایک ڈویژن کے سربراہ کے طور پر کی ہے اور اس کی اطلاعات کے مطابق وہ دو دن بعد اسرائیل واپس آ گئے۔
الیگزینڈرووچ کے اٹارنی ڈیوڈ زی چیسنوف نے منگل کے روز ٹیلی فون پر رائٹرز کو بتایا، "ان کے ساتھ خصوصی سلوک کی کسی بھی خبر میں قطعاً کوئی صداقت نہیں ہے۔ نہ ہی وفاقی یا ریاستی استغاثہ نے اس معاملے میں کوئی ناخوشگوار بات کی ہے۔"
چیسنوف نے یہ نہیں بتایا کہ آیا الیگزینڈرووچ 27 اگست کو کیس کے لیے طے شدہ سماعت میں پیش ہوں گے۔
فون کال کے بعد فراہم کردہ ایک بیان میں چیسنوف نے کہا کہ وہ "میڈیا میں نہیں بلکہ انصاف کے نظام کے اندر" رہتے ہوئے اپنے مؤکل کا دفاع کریں گے اور لوگوں کو "فوری طور پر کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے" اور یہ کہ الیگزینڈرووچ کی "رہائی معمول کے طریقہ کار کے مطابق تھی اور ضمانت کروائی کی گئی تھی۔"
امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ اس نے الیگزینڈرووچ کی رہائی اور امریکہ سے روانگی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ایف بی آئی نے منگل کو کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جس نے قانون نافذ کرنے والے آپریشن میں حصہ لیا۔
لاس ویگاس میں ایٹ نیوز ناؤ کی ایک رپورٹ کے مطابق نیواڈا کے قانون کے تحت الیگزینڈرووچ کسی بھی جج کو دیکھنے سے پہلے بانڈ پوسٹ کروایا اور انہیں رہائی مل گئی اور ان کی رہائی پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔
ریویو جرنل کے مطابق وولفسن نے کہا کہ آٹھ گرفتار شدگان میں سے کم از کم چار نے فوراً ضمانت کروائی اور بغیر کسی شرط کے انہیں رہا کر دیا گیا۔
مقامی میڈیا کے حوالے سے ایک گرفتاری کی رپورٹ کے مطابق الیگزینڈرووچ ویگاس میں بلیک ہیٹ سائبر سکیورٹی کانفرنس کے لیے موجود تھے۔