ٹرمپ کا ایران سے ایتھوپیا تک "جنت میں داخل ہونے" کے لیے چھ جنگیں ختم کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امن کے نوبل انعام کے خواہش مند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جنگیں ختم کرنے اور امن پھیلانے کی کوشش میں ہیں تاکہ ایک اچھے انسان کے طور پر "جنت میں داخل ہو سکیں"۔

انھوں نے یہ بات منگل کے روز یوکرین کے صدر ولودو میر زیلنسکی سے مذاکرات کے دوران کہی۔ یہ بات چیت روس کے ساتھ امن معاہدے کے لیے کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے "چھ جنگیں ختم کیں"، مگر بعد میں یہ تعداد بڑھا کر سات بتائی۔ "فوکس نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا "میں نے سات جنگوں آک آگ کو بجھایا ہے"، تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ساتویں جنگ کون سی ہے۔ امریکی صدر نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ "میں واقعی جنت میں جانا چاہتا ہوں"۔

آرمینیا اور آذربائیجان

ٹرمپ نے اس ماہ آرمینیا اور آذربائیجان کے رہنماؤں کو واشنگٹن بلا کر ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کروائے جس کا مقصد پرانے تنازع کو ختم کرنا تھا۔ اس سمجھوتے میں آرمینیا نے امریکا کو ایک مرکزی راہ داری بنانے کا حق دیا جسے "ٹرمپ روڈ فار پیس اینڈ پروسپیرٹی" کہا گیا۔ منصوبے کو خطے کے لیے بڑا معاشی موڑ قرار دیا جا رہا ہے، مگر ابھی اس کی تکمیل اور شرائط واضح نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اب بھی سرحدی تنازع، نگارنو کاراباخ کا معاملہ اور سفارتی تعلقات کی بندش باقی ہیں۔

کانگو اور روانڈا

جون میں کانگو اور روانڈا کے نمائندوں نے وائٹ ہاؤس میں امن معاہدہ کیا جس میں قطر نے بھی کردار ادا کیا۔ ٹرمپ نے اسے "شان دار کامیابی" کہا۔ تاہم بعد میں بغاوتی گروہ "ایم 23" نے الزام لگایا کہ کانگو کی فوج نے معاہدے کی شرائط توڑی ہیں، اور دوبارہ لڑائی بھڑکنے کی دھمکی دی۔

ٹرمپ الاسکا سے جاتے ہوئے (آرکائیو - اے ایف پی)
ٹرمپ الاسکا سے جاتے ہوئے (آرکائیو - اے ایف پی)

بھارت اور پاکستان

کشمیر میں دہشت گرد حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتے تناؤ کو ٹرمپ نے اپنی ثالثی سے ختم کرنے کا دعویٰ کیا۔ بھارت نے امریکی کردار تسلیم کیا، جبکہ پاکستان نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے اس حملے میں 26 شہری مارے گئے تھے۔

ایران اور اسرائیل

جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ دن کی جنگ ہوئی جس کے دوران امریکا نے بھی ایرانی جوہری مقامات پر حملے کیے۔ بعد ازاں ٹرمپ نے تل ابیب اور تہران کے بیچ جنگ بندی کا اعلان کرایا۔ انھوں نے کہا "یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی کہ میں نے تمام جوہری تنصیبات تباہ کیں اور پھر جنگ کو روک دیا"۔ ایران اور اسرائیل دونوں نے امریکی کردار پر اعتراض نہیں کیا، مگر کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔

کمبوڈیا اور تھائی لینڈ

جنوب مشرقی ایشیا میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی جھڑپوں میں 42 افراد ہلاک اور 3 لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے۔ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر دباؤ ڈالا کہ لڑائی بند نہ ہوئی تو تجارتی مذاکرات روک دیے جائیں گے۔ پھر ملائیشیا میں امریکی سرپرستی میں ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں فائر بندی پر اتفاق ہوا۔

مصر اور ایتھوپیا

النہضہ ڈیم پر مصر اور ایتھوپیا کے درمیان اختلاف کو ٹرمپ نے بھی ایک "تنازع" کے طور پر اپنی فہرست میں شامل کیا، مگر ان کی کوششیں ناکام رہیں۔ ایتھوپیا نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ ستمبر 2025 میں ڈیم کا افتتاح ہو گا، جبکہ مصر اور سوڈان اب بھی اس کے خلاف ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ اپنے کردار کو "سات جنگوں کے خاتمے" کے طور پر پیش کر رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یوکرین روس کی جنگ اور غزہ پر اسرائیلی حملے ابھی بھی جاری ہیں، جنھیں امریکی دباؤ کے باوجود روکا نہیں جا سکا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں