یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی جو رواں سال کے شروع میں صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات میں بد مزہ ہو کر واپس گئے تھے اس بار وائٹ ہاوس آئے تو کافی بدلے بدلے سے تھے۔ سوٹ میں ملبوس زیلنسکی نے صدر ٹرمپ کی خوشی اور توجہ پانے کے لیے انہیں ایک تحفہ بھی پیش کیا۔
یہ تحفہ روس کے خلاف جنگ لڑنے والے یوکرینی ویٹرنز کا گالف کلب تھا جو اب صدر ٹرمپ کے نام کر دیا گیا ہے۔۔یہ بات منگل کے روز کیف کی طرف سے ایک بیان میں بتائی گئی ہے۔
خیال رہے ڈونلڈ ٹرمپ اس طرح کے کئی گالف کلبوں کے مالک ہیں تاہم اب ان کا ایک کلب یوکرین میں بھی ہو گیا ہے۔ اس تحفے کے جواب میں ٹرمپ بھی اس بار زیلنسکی پر مہربان ہوتے نظر آئے اور انہوں نے زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس کی علامتی چابی جوابی تحفے میں پیش کی ۔
یوں ماہ فروری میں ہونے والی وائٹ ہاؤس میں دونوں ملکوں کے صدور کی ملاقات جو ایک دوسرے کے ساتھ چیخ کربولنے پر منتج ہوئی تھی اب ان تحفوں کی وجہ سے خوشگواریت میں دب جانے کاامکان ہے
فروری میں جب زیلنسکی وائٹ ہاؤس آئے تھے تو امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے بھی اس چیخ چخاڑ میں اپنی آواز ملاکر نو وشگواریت میں اضافہ کیا تھا۔
ان دونوں ملاقاتوں کے درمیانی وقفےںمیں بھی صدر زیلنسکی نے اپنے مزاج میں ہی تبدیلی کو بہتر جانتے ہوئے صدر ٹرمپ کی مختلف مواقع پر تعریف کی اور یوکرین میں امن لانے کے لیے ان کی جاری کوششوں کو سراہا ۔
صدر زیلنسکی کے دفتر کی طرف سے بتایا گیا ہے یہ گالف کلب اس یوکرینی سپاہی کی ملکیت رہا ہے جس نے روس کے پہلے جنگی حملے کے ابتدائی مہینوں کے دوران اپنی ایک ٹانگ کھو دی تھی۔ مگر اپنے بھائیوں کو بچا لیا تھا۔
وائٹ ہاوس میں صدرٹرمپ کو گالف کلب کا تحفہ پیش کرتے ہوئے زیلنسکی نے ٹرمپ کو اس کلب کی ایک ویڈیو دکھائی اور بعد ازاں ایک ویڈیو میں صدر ٹرمپ اس تحفے پر ہوکرینی عوام کا شکریہ ادا کرتے نظر آئے۔ یہ ویڈیوز یوکرینی ویٹرنز کی طرف سے منگل کو دیر سے پیش کی گئی ہیں۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا میں گالف کلبوں کے بارے میں کافی جانتا ہوں ۔ مگر آپ کی' سونگ 'کو دیکھ رہا ہوں۔ زیلنسکی سے ٹرمپ نے مزید کہا آپ ایک متاثر کرنے والی شخصیت ہیں۔ آپ کا وطن بھی عظیم ہے۔ ہم اسے واپس بہتری کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر زیلنسکی نے اس موقع پر ٹرمپ کی اہلیہ کے نام اپنی اہلیہ کا خط بھی دیا جس میں میلانیہ ٹرمپ کی طرف سے روسی صدر کو یہ لکھنے پر شکریہ ادا کیا گیا ہے کہ یوکرینی بچوں کو بجایا جائے۔
غیر ملکی رہنما وائٹ ہاؤس آنے پر صدرٹرمپ کو رام کرنے کے لیے ان دنوں بطور خاص ثحائف لاتے ہیں تاکہ ٹرمپ کو خوش کیا جا سکے۔
ماہ فروری کے دوران کیر سٹارمر ائے تو شاہ چارلس سوم کے دستخطوں والا دعوت نامہ ساتھ لائے کہ صدر ٹرمپ برطانیہ آئیں۔