غزہ پر قبضے کی منصوبہ بندی ثالثی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی ہے : حماس
حماس نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر کسی معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا
فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر کنٹرول کے لیے فوجی منصوبے کی منظوری کو عرب اور بین الاقوامی ثالثوں کی ان کوششوں کی بے توقیری قرار دیا ہے جو فلسطینی علاقے میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے "غزہ شہر کے خلاف نام نہاد آپریشن جدعون 2" کے اعلان کا مطلب ہے کہ یہ مسلسل جاری نسل کشی کی جنگ کو مزید بڑھانے اور جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی کوششوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ جنگ بندی کے کسی معاہدے کو روکنے اور علاقے میں موجود اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ "ثالثوں کی تجویز کو نظر انداز کرنا اور اس پر کوئی جواب نہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل میں رکاوٹ ڈالنے والے خود نیتن یاہو ہیں، جنھیں اپنے قیدیوں کی زندگی کی پروا نہیں اور وہ ان کی بازیابی کے حوالے سے سنجیدہ بھی نہیں ہیں۔"
غزہ پر کنٹرول کا فوجی منصوبہ
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے غزہ شہر پر کنٹرول پانے کے لیے بدھ کے روز ایک فوجی منصوبے کی منظوری دی اور اس پر عمل درآمد کی تیاری کے طور پر 60 ہزار اضافی فوجیوں کو طلب کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ بندی کی ایک نئی تجویز پر اسرائیل کے با ضابطہ جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے، حالانکہ جنگ کو شروع ہوئے غزہ میں اب 22 ماہ گزر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں کئی مذاکراتی دور ہوئے جن کے نتیجے میں دو بار عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ ان جنگ بندیوں کے دوران اسرائیلی قیدیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہوا، تاہم جنگ کے مکمل خاتمے یا تمام قیدیوں کی رہائی پر کوئی حتمی اتفاق نہ ہو سکا۔
گزشتہ پیر کو حماس نے قطر اور مصر کو اپنی آمادگی سے آگاہ کیا کہ وہ ان کی پیش کردہ نئی جنگ بندی تجویز کو قبول کرنے پر تیار ہے، جبکہ قاہرہ نے اس کے بعد کہا تھا کہ "اب گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے"۔
اپنے تازہ بیان میں حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا اس "مجرمانہ کارروائی" کے نتائج کے مکمل ذمے دار ہوں گے۔