برطانیہ میں فلسطینی پرچم لہرانے پرمیوزک بینڈ کی پابندی،متعدد گروپوں کا فیسٹیول کا بائیکاٹ
بینڈز کی جانب سے احتجاجی واک آؤٹ
برطانیہ کے شہر پورٹسماؤتھ میں ہونے والے وکٹوریس میوزک فیسٹیول میں ایک بڑا تنازع کھڑا ہوگیا جب آئرش بینڈ "دی میری والپرز" نے الزام لگایا کہ انہیں فلسطینی پرچم لہرانے پر "روکا گیا"۔ اس واقعے کے بعد کئی بینڈز نے احتجاجاً اپنی پرفارمنس منسوخ کر دی۔
بینڈز "دی لاسٹ ڈنر پارٹی"، "کلفرڈز" اور "دی اکیڈیمک" نے ہفتے کو اعلان کیا کہ وہ فیسٹیول میں شرکت نہیں کریں گے۔ یہ فیصلہ جمعے کو پیش آنے والے واقعے کے بعد سامنے آیا۔
فیسٹیول منتظمین کا معذرت نامہ
فیسٹیول کے منتظمین نے وضاحت دی کہ آئرش بینڈ کا شو اس لیے روکا گیا کیونکہ انہوں نے "امتیازی نعرہ بازی" کی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی امدادی کوششوں میں "اہم عطیہ" دیا جائے گا۔
بینڈز کا سخت ردعمل
"دی لاسٹ ڈنر پارٹی" نے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا کہ "ہم وکٹوریس فیسٹیول میں دی میری والپرز کی آواز دبانے کے فیصلے پر شدید غصے میں ہیں۔ بطور بینڈ ہم سیاسی سنسرشپ کی حمایت نہیں کر سکتے، اس لیے آج ہم فیسٹیول کا بائیکاٹ کر رہے ہیں"۔
بیان میں مزید کہا گیا: "جب غزہ کے عوام کو جان بوجھ کر قحط میں دھکیلا جا رہا ہے، فنکاروں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی پلیٹ فارمز کو اس معاملے کی جانب توجہ دلانے کے لیے استعمال کریں۔ اس وقت توجہ ہٹانے کی کوشش انتہائی مایوس کن ہے۔"
بینڈ نے اپنے مداحوں سے فلسطینی عوام کی مدد کرنے والی طبی تنظیم کو عطیات دینے کی بھی اپیل کی اور آخر میں کہا کہ "فلسطین آزاد ہوگا"۔
اصل تنازع کیا تھا؟
منتظمین کا کہنا ہے کہ پرفارمنس سے پہلے بینڈ کو بتایا گیا تھا کہ فیسٹیول کی پالیسی کے مطابق کسی بھی پرچم کو لانے کی اجازت نہیں ہے، تاہم ان کے اظہارِ رائے کے حق کا احترام کیا گیا۔ ان کے مطابق شو اسی وقت روکا گیا جب پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی۔
لیکن "دی میری والپرز" نے دعویٰ کیا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے کہ فیسٹیول کا عملہ اسٹیج پر آکر فلسطینی پرچم ہٹاتا ہے اور "فلسطین آزاد" کا نعرہ لگانے کے بعد آواز کاٹ دی جاتی ہے۔
فیسٹیول انتظامیہ کا نیا مؤقف
بعد ازاں وکٹوریس فیسٹیول نے ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے کہا: "ہم نے اپنی پالیسی واضح کرنے میں تاخیر اور غیر حساس رویہ اختیار کیا جس سے بینڈ کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم دل سے معذرت خواہ ہیں"۔