حوثیوں تک پہنچنے سے پہلے کوکین کی بڑی کھیپ ضبط کرلی گئی: یمن
منشیات برازیل کی بندرگاہ سے عدن پہنچی تھی اور چینی کے تھیلوں میں چھپائی گئی تھی
یمن میں انسداد دہشت گردی کے ادارے نے 599 کلوگرام وزنی کوکین کی کھیپ کو سمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کوکین چینی کے تھیلوں میں چھپائی گئی تھی اور برازیل کی بندرگاہ سے عدن پہنچی تھی۔ اس کھیپ کو حوثی باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں منتقل کیا جانا تھا۔ ادارے نے بتایا کہ یہ کارروائی سپیشلائزڈ کرمنل پراسیکیوشن کے تعاون سے ایک انٹیلی جنس اطلاع کے بعد کی گئی۔ اطلاع میں ایک چینی کنٹینر کے اندر مشکوک کھیپ کی موجودگی کا اشارہ دیا گیا تھا۔ فوری طور پر خصوصی ٹیمیں پراسیکیوشن کے وکیل کے ساتھ حرکت میں آئیں اور ایک تفصیلی تلاشی مہم چلائی جس کے نتیجے میں منشیات کو ضبط کر لیا گیا۔ یہ منشیات چھپانے کے لیے انسولیٹرز اور کاربن پیپر میں لپیٹی گئی تھی۔
ادارے نے وضاحت کی کہ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اس کھیپ کا تعلق بین الاقوامی سمگلنگ نیٹ ورکس سے ہے جو حوثیوں اور بیرونی فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ادارے نے کہا کہ یہ کارروائی 2020 کے بعد اس نوعیت کی تیسری کارروائی ہے۔ اس سے قبل اسی طرح کی دو کھیپیں بھی اسی طریقے سے سمگل کی گئی تھیں۔
انسداد دہشت گردی کے ادارے کے سربراہ شلال شائع نے یمن میں اقوام متحدہ کے نمائندوں کو کارروائی کی تفصیلات پیش کیں جہاں ضبط شدہ اشیاء کا معائنہ کیا گیا۔ تحقیقات ابھی بھی جاری ہیں تاکہ اس میں ملوث نیٹ ورکس کا پتہ لگایا جا سکے۔ ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یہ کھیپ باضابطہ طور پر تلف کر دی جائے گی ۔ ادارے نے سمگلنگ نیٹ ورکس کا پیچھا کرنے اور منشیات کے ذریعے حوثیوں کی مالی امداد کے ذرائع کو ختم کرنے کے لیے اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے پر زور دیا۔