اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ شہر میں فوجی کارروائیوں کو وسیع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر میں کئی علاقوں بشمول التفاح اور الزرقا شدید اور مسلسل فضائی بم باری اور توپوں سے حملوں کی زد میں ہیں۔ ان کارروائیوں میں دھماکہ خیز روبوٹ بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق غزہ کے مغربی علاقے الکرامہ میں ایک گھر پر فضائی حملے کے نتیجے میں تین فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ ایک اور بم باری میں شہر کے وسط میں بے گھر فلسطینیوں کے خیمے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے متعدد شہری زخمی ہوئے اور آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی حملوں میں وسطی اور جنوبی غزہ کی ان بستیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں بڑی تعداد میں بے گھر لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اسی دوران شمالی غزہ میں امداد کے منتظر شہریوں کے اجتماع پر بھی گولہ باری کی گئی۔ یہ تمام واقعات ایسے وقت پیش آ رہے ہیں جب مقامی ادارے اور اقوامِ متحدہ کے زیر انتظام ادارے بھوک اور غذائی قلت کے بڑھتے خطرات پر انتباہات جاری کر رہے ہیں۔ بالخوص اس اعلان کے بعد کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی کارروائیوں کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
کم از کم 42 ہلاکتیں
غزہ کی سول ڈیفنس نے اعلان کیا کہ اتوار کو اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 42 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جب کہ اسرائیلی فوج غزہ شہر پر بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا "آج فجر سے اب تک شہیدوں کی تعداد 42 تک پہنچ چکی ہے" ان کے مطابق غزہ شہر سمیت وسطی، شمالی اور جنوبی حصوں پر اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔
بصل نے کہا کہ سب سے خون ریز حملہ غزہ شہر کے الصبرہ محلے میں ہوا، جس میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے۔
الصبرہ پر حملے
غزہ کے محلے الصبرہ کے ایک رہائشی ابراہیم الشرفا نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "صورت حال ہر اعتبار سے نہایت خطرناک ہے۔ ہر دن، ہر لمحہ دھماکے، شہادتیں، موت اور خون، ہم اب مزید برداشت نہیں کر پا رہے۔"
انھوں نے مزید کہا "غزہ کے الصبرہ محلے پر فضائی حملے مسلسل جاری ہیں، ساتھ ہی رہائشی علاقوں اور عام شہریوں کے گھروں پر توپ خانے سے بم باری کی جا رہی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہاں جائیں، موت ہر جگہ ہمارا پیچھا کر رہی ہے۔"
غزہ میں یہ جنگ اس وقت بھڑکی جب حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر غیر معمولی حملہ کیا۔ اس حملے میں 1,219 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ یہ اعداد و شمار فرانسیسی خبر ایجنسی نے سرکاری بیانات کی بنیاد پرجاری کیے۔
اس کے بعد سے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 62,686 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ یہ اعداد و شمار حماس کے زیرانتظام وزارت صحت نے جاری کیے ہیں جنھیں اقوامِ متحدہ معتبر قرار دیتی ہے۔