غزہ اور دیر البلح پر اسرائیل کی شدید بم باری ، درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی

اسرائیل کے شدید حملوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں ہلاکتوں کی تعداد 100 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوج نے آج منگل کی صبح غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملے کیے، جن کی سب سے زیادہ شدت غزہ شہر اور دیر البلح میں محسوس کی گئی۔ ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے غزہ شہر کی الجلاء اسٹریٹ پر ایک رہائشی فلیٹ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کی شیر خوار بچی جاں بحق ہو گئیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسی دوران مغربی غزہ کے علاقے الشاطی میں بھی ایک گھر پر بم باری کی گئی۔

اس کے ساتھ ہی فضائیہ کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی جس کے باعث مزید ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔ لاشوں اور زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

مشرقی غزہ میں الصبرہ محلے کی ایک رہائشی عمارت پر فضائی اور زمینی گولہ باری کی گئی جس میں کم از کم سات فلسطینی جاں بحق ہوگئے، جبکہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

شمالی غزہ میں اسرائیلی افواج نے جبالیا میں عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا، اور اس کے ساتھ ہی وسطی و جنوبی غزہ میں بھی فضائی اور توپ خانے کے حملے جاری رہے۔

"العربیہ/الحدث" کی نامہ نگار نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جبالیا اور التفاح میں متعدد فضائی حملے کیے، اور کچھ مقامات پر بارودی روبوٹ بھی دھماکے سے اڑائے گئے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے مزید بتایا کہ جبالیا النزلۃ کے علاقے میں ایک گھر اور وسطی غزہ میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جس میں مزید شہری جاں بحق ہوئے۔

طبی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں میں 92 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جن میں 6 صحافی بھی شامل ہیں جو جنوبی غزہ کے ناصر میڈیکل کمپلیکس میں ایک عمارت پر حملے میں مارے گئے۔ اسرائیلی افواج ان مقامات کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں جہاں شہری امدادی سامان کے انتظار میں جمع ہوتے ہیں۔

دوسری جانب خان یونس کے ساحل پر قائم بے گھر افراد کے خیمے سمندر کے پانی میں ڈوب گئے، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔
اسرائیلی فضائیہ نے صبح سے ہی غزہ کے مختلف علاقوں پر شدید بم باری اور توپ خانے کے حملے جاری رکھے۔ اس سے پہلے خان یونس کے علاقے المواصی میں بے گھر افراد کے ایک خیمے پر بم باری کی گئی تھی جس میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی اور مشرقی الصبرہ اور مشرقی التفاح میں بارودی روبوٹ دھماکے سے اڑائے اور جنوب مشرقی غزہ کے الزیتون محلے میں کئی گھروں کو تباہ کیا۔ اسی دوران جبالیا کیمپ میں بھی بڑے پیمانے پر مکانات کو اڑایا گیا۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2023 سے تباہ حال غزہ اسرائیلی محاصرے کی لپیٹ میں ہے۔ اگرچہ چند ہفتے قبل اسرائیل نے محدود تعداد میں امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی تھی لیکن ان کی تقسیم "غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن" کے تحت کی جارہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کو اس عمل سے دور رکھا گیا ہے جس پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی۔

علاوہ ازیں، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے رِک بیپیرکورن نے چند روز قبل کہا تھا کہ غزہ میں غذائی قلت مشرقِ وسطیٰ میں پہلی با ضابطہ قحط کی صورت اختیار کرچکی ہے۔

اسی طرح اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ فوڈ سکیورٹی مانیٹرنگ باڈی "انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن" کے ماہرین نے بھی پہلی مرتبہ شمالی غزہ کے حالات کو با ضابطہ طور پر "قحط" قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں