امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یوکرین کو تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی ہے۔ اس میں طویل فاصلے کے میزائل اور دیگر متعلقہ سازوسامان شامل ہے تاکہ یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا سکے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی طرف سے یوکرین اور روس کے درمیان امن قائم کرنے کی کوششیں رک گئی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کو 82.5 کروڑ ڈالر مالیت کے طویل فاصلے کے میزائل اور نیویگیشن سسٹمز فراہم کرے گا۔
مختلف نوعیت کے ہتھیار
اس معاہدے میںERAM نوعیت کے 3350 میزائل اور 3350 جی پی ایس (GPS) یونٹس شامل ہوں گے۔ ان کے کے علاوہ دیگر پرزے، لوازمات، تربیت اور فنی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یوکرین ان ہتھیاروں کی ادائیگی کے لیے نیٹو اتحادی ممالک ڈنمارک، ہالینڈ اور ناروے کے فنڈز کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فوجی امدادی فنڈز استعمال کرے گا۔
روسی حملوں میں اضافہ
محکمہ خارجہ نے کہا "یہ مجوزہ معاہدہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کی حمایت کرے گا، کیونکہ اس سے سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک شراکت دار ملک کی سیکیورٹی بہتر ہو گی۔"
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین پر روسی حملوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ کے شروع میں الاسکا میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی تھی تاکہ تین سال سے جاری تنازع کے لیے مذاکراتی حل پر زور دیا جا سکے۔