بحیرہ احمر میں نیا حملہ حوثیوں کا اسرائیل سے تعلق رکھنے والے تجارتی جہاز پر حملے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کی حوثی ملیشیا نے اعلان کیا کہ اس نے بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں ایک تجارتی جہاز کو دو ڈرون طیاروں اور ایک میزائل سے نشانہ بنایا، جسے اسرائیل سے منسلک قرار دیا گیا۔

حوثیوں نے حملے کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی۔

اس سے قبل منگل ہی کو اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے یمن سے داغا گیا ایک ڈرون اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی مار گرایا۔ فوج کے ترجمان نے پلیٹ فارم "ایکس" پر بتایا کہ اس موقع پر خطرے کے سائرن نہیں بجائے گئے۔

یہ واقعہ ایک روز بعد سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے پیر کو بھی یمن سے بھیجا گیا ایک ڈرون فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت بھی کوئی وارننگ سسٹم فعال نہیں کیا گیا۔

حوثیوں نے پیر کے روز بھی اعلان کیا تھا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں ایک تیل بردار جہاز کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب چند روز قبل اسرائیل نے صنعاء پر بمباری کر کے حوثی ملیشیا کی غیر تسلیم شدہ حکومت کے سربراہ اور کئی وزرا کو ہلاک کیا تھا۔ اس کے جواب میں عبدالملک الحوثی نے اسرائیل کے خلاف حملے مزید بڑھانے کی دھمکی دی تھی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے حوثی قیادت کو براہ راست نشانہ بنایا ہے، جسے بعض مبصرین نے گذشتہ موسم گرما میں لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیلی کارروائیوں سے تشبیہ دی ہے۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثی ملیشیا مسلسل اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کرتی رہی ہے، جن میں سے زیادہ تر کو راستے ہی میں روک لیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بحیرہ احمر میں درجنوں تجارتی جہازوں پر بھی حملے کیے جنہیں اسرائیل سے جوڑا جاتا ہے۔

دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل نے یمن میں حوثی ٹھکانوں پر درجنوں حملے کیے، اگرچہ واشنگٹن نے چند ماہ قبل فائر بندی کا اعلان کیا، لیکن اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ گروہ پر حملے جاری رکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں