شام میں دروز کے مذہبی رہنما کا خود مختار انتظامی ڈھانچے کا مطالبہ ، حقِ خود ارادیت پر زور
الہجری نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے حمایت پر دونوں رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا
شام کے صوبے سویداء میں دروز برادری کے ایک مذہبی رہنما شیخ حکمت الحَجری نے ایک خود مختار انتظامی ڈھانچے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقِ خود ارادیت کے احترام کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دروز برادری اپنے اس مطالبے سے کسی بھی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ایک اور بیان میں الحَجری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا شکریہ ادا کیا اور سویداء کے لیے گزر گاہیں کھولنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جو دیہات اور زمینیں "چھین لی گئی ہیں" انھیں ان کے اصل باشندوں کو واپس کیا جائے اور تمام مغویوں کو غیر مشروط طور پر فوراً رہا کیا جائے۔
حكمت الهجري أحد شيوخ عقل الطائفة الدرزية يطالب بكيان مستقل مشددا على ضرورة احترام حق تقرير المصير وأن الدروز لن يتراجعوا عن مطالبهم مهما كانت التضحيات#قناة_العربية pic.twitter.com/ArGJ1PqfWd
— العربية (@AlArabiya) September 5, 2025
تقریباً دس روز قبل بھی الحَجری نے بین الاقوامی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دروز برادری کے لیے ایک الگ صوبہ قائم کیا جائے۔ نئی دروز تنظیم "رجال الکرامہ" کے سربراہ مزید خُداج کے استقبال کے موقع پر اپنی تقریر میں انھوں نے دنیا کے "آزاد ممالک" سے اپیل کی کہ وہ اس برادری کا ساتھ دیں تاکہ ہمیشہ کے لیے الگ صوبے کا اعلان کیا جا سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حال ہی میں مسلح دروز گروہوں پر مشتمل جو "نیشنل گارڈز" تشکیل دیا گیا ہے وہ "بین الاقوامی طاقتوں کی ضمانت کے تحت اس سر زمین کا دفاع کرے گا"۔
الحَجری نے دعویٰ کیا کہ "حالیہ آزمائش دروز برادری کی نسل کشی کے مقصد سے کی گئی تھی"۔
یاد رہے کہ 13 جولائی کو سویداء میں دروز جنگجوؤں اور بدوی قبائل کے درمیان ایک ہفتے تک جھڑپیں اور مسلح تصادم جاری رہا تھا، جسے روکنے کے لیے حکومتی سیکیورٹی فورسز کو مداخلت کرنا پڑی۔ اس لڑائی کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق تقریباً 2 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔