غزہ میں جنگ بندی کی امریکی تجویز میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی ضمانت کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

العربیہ/الحدث کو باخبر ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ حماس کو امریکہ کی جانب سے دی جانے والی نئی تجویز میں غزہ میں فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے اہم نکات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس تجویز میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ "تمام قیدیوں کو خواہ زندہ ہوں یا جاں بحق جنگ بندی پر دستخط کے 48 گھنٹے کے اندر رہا کیا جائے گا"۔

اسی طرح یہ بھی طے پایا کہ قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ پچھلے معاہدوں کی طرز پر ہوگا، جن میں بعض فلسطینی عمر قید کی سزا پانے والے اور غزہ کے اسیر شامل ہیں۔ ان سب کو 48 گھنٹوں میں آزاد کر دیا جائے گا۔

نئی حکومت کی تشکیل

تجویز کے تحت فائر بندی کا آغاز فوری ہوگا، جو ساٹھ دن تک یا مذاکرات مکمل ہونے تک جاری رہے گی۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی ضمانت ہوگی کہ تمام فریق نیک نیتی سے مذاکرات کریں گے۔

دستاویز میں زیر غور نکات میں حماس کی حیثیت کا تعین، اسلحے کے خاتمے اور ایک نئی حکومت کی تشکیل شامل ہے۔ اسرائیلی فوج کے انخلا کو بھی حکومت کی تشکیل یا مذاکرات میں کامیابی سے مشروط کیا گیا ہے، جب کہ حماس کے اراکین کو عام معافی دی جائے گی۔

پانچویں شق میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کا آزادانہ بہاؤ فوری طور پر شروع ہو جائے گا۔

اسلحے کی حوالگی

اسی دوران ہنگری کے دارالحکومت بوداپسٹ سے اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اعلان کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر بتایا ہے کہ اسرائیل اس تجویز کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اسرائیل ایک جامع معاہدہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے، جو جنگ کے خاتمے، مغویوں کی رہائی اور حماس کے اسلحے کی حوالگی پر مبنی ہوگا"۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ یہ حماس کے لیے "آخری وارننگ" ہے تاکہ وہ قیدیوں کو رہا کرے۔ ان کا اشارہ اس تجویز کی جانب تھا جو ان کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے چند روز قبل ثالثوں کے ذریعے حماس کو پہنچائی تھی۔

حماس نے اس سے قبل اپنے موقف میں کہا تھا کہ وہ امریکی تجویز قبول کرنے کو تیار ہے تاہم شرط یہ ہے کہ اسرائیل غزہ سے مکمل انخلا کرے اور فائر بندی کی ضمانت دی جائے۔ دوسری جانب اسرائیل نے کل تک اپنا باضابطہ جواب ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس وقت بھی غزہ میں 47 افراد قید ہیں، جن میں 25 ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ سب ان 251 افراد میں شامل تھے جنہیں 7 اکتوبر 2023؁کو حماس کے حملے کے دوران یرغمال بنایا گیا تھا۔

ادھر غزہ میں اسرائیلی حملوں اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 64 ہزار 455 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ یہ تازہ ترین اعداد و شمار حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے جاری کیے ہیں، جنہیں اقوام متحدہ معتبر قرار دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں