اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے حقوق کی غزہ پر اسرائیلی 'نسل کشی کے بیانات' کی مذمت

غزہ کے ناقابلِ بیان مصائب پر اظہارِ افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے حقوق نے پیر کے روز غزہ کے بارے میں اسرائیلی حکام کی جانب سے صریح "نسل کشی کے بیانات" پر خطرے کی گھنٹی بجا دی اور "قتلِ عام کے خاتمے" کے لیے فیصلہ کن بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا، مقبوضہ فلسطینی سرزمین پہلے ہی "قبرستان" بن چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 60ویں اجلاس سے افتتاحی خطاب میں وولکر ترک نے اسرائیل کے ہاتھوں "غزہ میں فلسطینی شہریوں کے قتلِ عام اور انہیں ناقابلِ بیان مصائب اور تباہی کا نشانہ بنانے پر شدید تنقید کی۔

انہوں نے کہا، "اسرائیل کا غزہ میں فلسطینی شہریوں کا وسیع پیمانے پر قتل؛ اس کا ناقابلِ بیان مصائب اور انتہائی تباہی برپا کرنا؛ زندگی بچانے والی امداد میں رکاوٹ اور اس کے نتیجے میں شہریوں کی فاقہ کشی؛ اس کا صحافیوں، اقوامِ متحدہ کے عملے اور این جی او کے کارکنان کو قتل کرنا اور جنگی جرائم پر جرائم کا ارتکاب دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔"

نیز کہا، "میں نسل کشی پر مبنی بیان بازی کے صریح استعمال اور سینئر اسرائیلی حکام کی طرف سے فلسطینیوں سے ذلت آمیز غیر انسانی سلوک پر دہشت زدہ ہوں۔"

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ جنگ شروع ہونے کے تقریباً دو سال بعد "خطہ امن کے لیے پکار رہا ہے۔"

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے فوراً بعد امریکہ کی طرح اسرائیل بھی انسانی حقوق کونسل سے الگ ہو گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز غزہ شہر کے رہائشی ٹاور بلاک پر بمباری کی جو تین دنوں میں تیسرا واقعہ ہے اور وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی کے اہم شہری مرکز پر اپنے فوجی حملے کو "تیز" کرنے کا اعلان کیا۔ ترک کے تبصرے اس کے بعد سامنے آئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا تخمینہ ہے کہ تقریباً دس لاکھ لوگ غزہ شہر اور اس کے اردگرد موجود ہیں جہاں اس نے گذشتہ ماہ باضابطہ قحط کا اعلان کیا تھا۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملہ جاری رہا تو "تباہی" آنے والی ہے۔

ترک نے خبردار کیا کہ "مزید فوج کشی، قبضے، الحاق اور جبر سے تشدد، انتقام اور دہشت میں مزید اضافہ ہو گا۔"

انہوں نے اصرار کیا کہ اسرائیل پر "قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نسل کشی کی کارروائیاں روکنے، نسل کشی پر اکسانے والوں کو سزا دینے اور غزہ میں فلسطینیوں تک کافی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے حکم کے مطابق اقدامات کرے۔"

انہوں نے کہا، "بین الاقوامی برادری اپنے فرائض میں ناکام ہو رہی ہے۔ ہم غزہ کے لوگوں کو مایوس کر رہے ہیں۔"

"نسل کشی کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کہاں ہیں؟" انہوں نے سوال کیا اور ممالک سے "ظالمانہ جرائم کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے" کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا، "انہیں اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل روکنی چاہیے جس سے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا خطرہ ہو۔ قتلِ عام کو ختم کرنے کے لیے ہمیں اسی وقت عمل کرنے کی ضرورت ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں