دوسری کشتی پر مشتبہ ڈرون حملہ ہوا: کارکنان امدادی فلوٹیلا

یہ دوسرا مشتبہ ڈرون حملہ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ جانے والے ایک بحری قافلے کے منتظمین اور فلسطینی حامی کارکنان نے منگل کو کہا کہ تیونس کے ساحل پر مشتبہ ڈرون حملے میں ان کی ایک اور کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔

موسمی حالات اور دیگر مسائل کے باعث متعدد بار تاخیر کے بعد اس بحری قافلے کو بدھ کو اپنا سفر دوبارہ شروع کرنا تھا۔

قافلے کے ایک رابطہ کار میلانیا شوئزر نے اے ایف پی کو بتایا، "دوسری رات، دوسرا ڈرون حملہ۔"

گلوبل صمود فلوٹیلا نے ایک بیان میں کہا کہ برطانوی پرچم بردار جہاز الما منگل کے روز تیونس کے پانیوں میں لنگرانداز تھا جب اس پر "حملہ" ہوا اور "آتش زدگی سے اس کے بالائی عرشے کو نقصان پہنچا۔ کوئی زخمی نہیں ہوا۔

جائے وقوعہ پر موجود اے ایف پی کے صحافیوں نے کچھ فاصلے پر ایک کشتی دیکھی جو تیونس کے قانون نافذ کرنے والے جہازوں کے حصار میں تھی اور ان جہازوں کی روشنیاں بہت تیز تھیں۔

اس واقعے سے ایک دن قبل کارکنان نے کہا کہ ان کی ایک اور کشتی کو بھی اسی طرح کے مشتبہ یو اے وی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن تیونس کے حکام نے کہا کہ "کسی ڈرون" کا سراغ نہیں ملا۔

کارکنان نے بتایا کہ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق بدھ کو اپنا "پرامن سفر" جاری رکھیں گے جیسا کہ فلوٹیلا "عزم و استقامت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔"

- دو راتیں، دو حملے -

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے آگ کی زد میں آنے والے الما کی ویڈیو پوسٹ کی اور کہا کہ اس سے یو اے وی کے حملے کا اشارہ ملتا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، "ویڈیو شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ایک ڈرون - جو روشنی کے بغیر تھا اس لیے اسے دیکھا نہیں جا سکا - نے ایک چیز گرائی جس نے الما کے عرشے کو آگ لگا دی۔"

یہ بحری قافلہ ہفتے کے آخر میں تیونس پہنچا اور جب اس نے پہلے واقعے کی اطلاع دی تو یہ شمال میں سیدی بو سعید کے ساحل پر لنگر انداز تھا۔

قافلے کے بعض ارکان نے کہا کہ انہوں نے ایک ڈرون دیکھا اور اس کے فوراً بعد کشتی کے خم دار حصے کو آگ لگ گئی۔

لیکن حکام نے ڈرون حملے کی خبروں کو "مکمل طور پر بے بنیاد" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آگ سگریٹ کے باقی ماندہ حصے کی وجہ سے لگی ہو گی۔

تیونس کے نیشنل گارڈ کے ترجمان حسام الدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ راتوں رات "کسی ڈرون کا سراغ نہیں ملا۔"

فلوٹیلا کے منتظمین کی پوسٹ کی گئی سکیورٹی فوٹیج میں ایک جلتا ہوا انبار کچھ فاصلے سے جہاز پر گرتے ہوئے دکھایا گیا۔

- 'مشن کو پٹڑی سے اتارنا' -

کارکنوں نے اپنے بیان میں مشتبہ حملوں کے لیے اسرائیل کو موردِ الزام قرار نہیں دیا لیکن کہا، "ہم غزہ کے فلسطینیوں پر شدید اسرائیلی جارحیت کے دوران آئے ہیں اور یہ ہمارے مشن کو راہ سے ہٹانے اور پٹڑی سے اتارنے کی ایک منظم کوشش ہے۔"

اس کے اعلیٰ سطحی شرکاء میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں