اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضا میں روک لیا۔
یمن میں حوثی باغی مسلسل اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں حماس کی حمایت کی جا سکے۔
فوج نے جمعرات کو ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا "اسرائیل کے کئی علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے یمن سے داغا گیا ایک میزائل روک لیا۔"
ایک روز قبل اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعاء اور شمالی صوبے الجوف میں کئی مقامات پر فضائی حملے کیے تھے۔ حوثی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں "وسطی صنعاء کے علاقے التحریر میں واقع محکمہ رہنمائی و ابلاغ کا دفتر"، "الجوف کے ضلع الحزم میں سول رجسٹری کا دفتر"، مرکزی بینک اور دیگر سرکاری عمارتیں نشانہ بنیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے "فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جن میں حوثی جنگجوؤں کے کیمپ، حوثیوں کے فوجی میڈیا ڈائریکٹوریٹ کا دفتر اور ایک ایندھن ذخیرہ گاہ شامل ہے جو فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔"
الرهوی کی ہلاکت
اس سے قبل 28 اگست کو اسرائیل نے صنعاء پر شدید فضائی بم باری کی تھی جس میں حوثیوں کے نام نہاد وزیرِاعظم احمد غالب الرهوی سمیت 11 وزراء اور اعلیٰ حکام مارے گئے تھے۔
حوثی رہنما نے اسرائیل کو مزید میزائل اور ڈرون حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائیاں "ایک مستقل، واضح اور بتدریج بڑھتے ہوئے راستے" پر جاری رہیں گی۔
یاد رہے کہ غزہ میں جنگ سات اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس نے غلافِ غزہ میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حملہ کیا۔ اس کے بعد سے حوثی باقاعدگی سے اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون بھیجتے رہے ہیں، تاہم اکثر اوقات انہیں راستے میں ہی روک لیا جاتا ہے۔
حوثی باغی بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل سے وابستہ تھے۔
اسرائیل کئی ماہ سے حوثیوں کے مقامات، ڈھانچوں اور کمانڈروں پر فضائی حملے کر رہا ہے جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔