فلوٹیلا پر مبینہ اسرائیلی حملہ ، اسرائیل ہمارے شہریوں کے حقوق کا احترام کرے : اٹلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اٹلی نے اسرائیل سے کہا ہے اسرائیل اس کے شہریوں کے حقوق کا احترام کرے۔ یہ مطالبہ ان لوگوں کے حوالے سے کیا گیا ہے جو انسانی حقوق کے کارکنوں کے قافلے کی صورت میں غزہ کی طرف جا رہے ہیں۔ تاکہ غزہ میں جاری اسرائیلی فوج کی ناکہ بندیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائیں۔

حالیہ چند ہفتوں میں یہ تیسرا فلوٹیلا ہے جو ناکہ بندیوں کے خلاف جا رہا ہے اور اس میں مختلف ممالک کے انسانی حقوق کے کارکنوں کے علاوہ کئی چھوٹی کشتیاں بھی شامل ہیں۔

فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر تیونس کے پانیوں سے گزرتے ہوئے آگ بھڑکانے والی ڈیوائسز سے حملہ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں وزیر خارجہ اٹلی نے جمعرات کے روز پارلیمان سے خطاب میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ ہمارے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ اس فلوٹیلا پر ہمارے 58 شہری شامل ہیں۔ ہم اپنے ان تمام شہریوں کو سفارتی مدد بھی فراہم کریں گے۔

تل ابیب میں سفارتخانہ نے دی گئی ہدایات کے مطابق اسرائیلی حکام سے کہا ہے کہ ہمارے شہریوں کے حقوق کا احترام کیا جائے جو فلوٹیلا کا حصہ ہیں اور ان میں کئی ارکان پارلیمان بھی شامل ہیں ۔

وزیر خارجہ نے کہا میں نے اسرائیلی ہم منصب سے خود بھی اس پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

صمود فلوٹیلا کی طرف سے ایک روز قبل بدھ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اس پر آگ بھڑکانے والے آلات سے اسرائیل کی طرف سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ کھلے پانیوں میں فلوٹیلا پر ڈرون طیاروں سے بھی حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈرون سے اس وقت نشانہ بنایا گیا جب فلوٹیلا میں شامل ایک کشتی تیونس کے پانیوں میں رکی ہوئی تھی۔

فلوٹیلا کے شرکاء نے ایک فوٹیج بھی دکھائی ہے جس میں نظر آرہا ہے کہ لوگ چلا کر ' آگ آگ' کہہ رہے ہیں اور آسمان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ کشتی کے عرشے پر مبینہ طور پر ڈرون کے ذریعے آگ برسائی گئی ہے۔ تاہم اس آگ سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔ اس کشتی پر برطانیہ کا پرچم لگا ہوا تھا۔

اسی طرح کا ایک حملہ ایک رات پہلے پرتگیزی پرچم والی کشتی پر کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے پارلیمان کو بتایا کہ ان کا فلوٹیلا کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے اور فلوٹیلا پر موجود اٹلی کے گروپ کے ترجمان سے بھی بات ہو رہی ہے۔

فلوٹیلا کے شرکاء مبینہ طور پر اپنے اردگرد ڈرونز کو نقل و حرکت کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ یاد رہے یہ سلسلہ بارسلونا سے سفر شروع کرتے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔

برطانیہ اور پرتگیز کی کشتیوں کے سائز کی وجہ سے انہیں اس قافلے کے بڑے جہازوں میں مانا جاتا ہے۔ انہیں کشتیوں کی ماں کے طور پر دیکھا جاتا ہے کہ وہ باقی کشتیوں کو بھی سپورٹ کرتی ہیں۔

ان کشتیوں پر زیادہ اہم شرکاء موجود ہیں۔ سویڈن سے تعلق رکھنے والی گریٹا تھنبرگ بھی اسی پر سوار ہیں جبکہ بارسلونا کے سابق میئر بھی فلوٹیلا کا حصہ ہیں۔

تیونس کی وزارت داخلہ نے بدھ کے روز بیان کیا کہ فلوٹیلا پر ہونے والے حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں ابھی کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

اگرچہ بعض شرکاء نے ان حملوں کا الزام اسرائیل پر لگایا ہے جس نے اس سے پہلے غزہ کی طرف بڑھنے والے فلوٹیلا کو راستے میں روک دیا تھا اور اس پر سوار انسانی حقوق سے متعلق کارکنوں کو گرفتار کر کے ڈی پورٹ کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں